سلسله احاديث صحيحه
الفتن و اشراط الساعة والبعث— فتنے، علامات قیامت اور حشر
باب: حرم میں الحاد سنگین جرم ہے
- " يحلها - يعني: مكة - ويحل به - يعني: الحرم المكي - رجل من قريش، لو وزنت ذنوبه بذنوب الثقلين لوزنتها ".سیدنا سعید بن عمر و رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ اس نے کہا : ابن زبیر ! اللہ کے حرم میں الحاد سے بچو ، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ”ایک قریشی آدمی مکہ کو اور حرم مکی کو جائز و حلال سمجھے گا ، اگر اس کے گناہوں کا جن و انس کے گناہوں سے وزن کیا جائے گا تو اس کے گناہ وزنی ہو جائیں گے ۔“ اے ابن عمرو ! تو غور و فکر کر ، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ آدمی تو ہی ہو ۔ تو نے قرآن پڑھا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے ۔ انہوں نے کہا : میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میرا چہرہ شام کی طرف ہے ، میں جہاد کرنے کے لیے جا رہا ہوں ۔
_____________________
أخرجه أحمد (2 / 196 و 219): حدثنا هاشم حدثنا إسحاق - يعني ابن سعيد -
حدثنا سعيد بن عمرو قال: " أتى عبد الله بن عمرو ابن الزبير، وهو جالس
في الحجر، فقال: يا ابن الزبير!
¬
__________
(¬1) على وزن أفعل، أي: أسوأ. اهـ.
__________جزء: 5 /صفحہ: 593__________
إياك والإلحاد في حرم الله، فإني أشهد
لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول (فذكره) . قال: فانظر أن لا تكون
هو يا ابن عمرو! فإنك قد قرأت الكتب وصحبت الرسول صلى الله عليه وسلم، فإني
أشهدك أن هذا وجهي إلى الشام مجاهدا ". قلت: وهذا إسناد صحيح على شرط
الشيخين، وهاشم هو ابن القاسم أبو النضر، وقد توبع، فقال الإمام أحمد (2
/ 136): حدثنا محمد بن كناسة حدثنا إسحاق بن سعيد عن أبيه قال: " أتى عبد
الله بن عمر عبد الله بن الزبير، فقال: ... " فذكره نحوه دون قوله: " فإنك
قد قرأت الكتب ... ". كذا قال " ابن عمر "، وفي " مسنده " أورده الإمام أحمد
ولعله من أوهام ابن كناسة، فإنه مع ثقته قد قال فيه أبو حاتم: " يكتب حديثه
ولا يحتج به ". وقال الهيثمي (3: 285) في الطريق الأولى: " رواه أحمد
ورجاله رجال الصحيح ". وقال في الأخرى: " رواه أحمد ورجاله ثقات ". وذكره
من حديث ابن عمرو أيضا بلفظ: " يلحد رجل بمكة يقال له: عبد الله، عليه نصف
عذاب العالم ". وقال: " رواه البزار، وفيه محمد بن كثير الصنعاني، وثقه
صالح بن محمد وابن سعد وابن حبان، وضعفه أحمد ". وقال الحافظ في الصنعاني
هذا:
__________جزء: 5 /صفحہ: 594__________
" صدوق، كثير الغلط ". لكن له شاهد يرويه يعقوب عن جعفر بن أبي المغيرة
عن ابن أبزى عن عثمان بن عفان رضي الله عنه قال: قال له عبد الله بن الزبير
حين حصر: إن عندي نجائب قد أعددتها لك، فهل لك أن تحول إلى مكة، فيأتيك من
أراد أن يأتيك؟ قال: لا، إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "
يلحد بمكة كبش من قريش اسمه عبد الله، عليه مثل نصف أوزار الناس ". أخرجه
أحمد (1 / 64) ورجاله ثقات كما قال الهيثمي، لكن جعفرا هذا - وهو ابن أبي
المغيرة الخزاعي القمي - ويعقوب - وهو ابن عبد الله القمي - كلاهما قال
الحافظ فيهما: " صدوق يهم ". فالحديث حسن بلفظ البزار، صحيح بلفظ أحمد.