سلسله احاديث صحيحه
الفتن و اشراط الساعة والبعث— فتنے، علامات قیامت اور حشر
باب: بدعت اور خیانت کا وبال
- " إني ممسك بحجزكم عن النار وتقاحمون فيها تقاحم الفراش والجنادب ويوشك أن أرسل حجزكم، وأنا فرط لكم على الحوض، فتردون علي معا وأشتاتا، يقول جميعا ، فأعرفكم بأسمائكم وبسيماكم كما يعرف الرجل الغريبة من الإبل في إبله، فيذهب بكم ذات الشمال، وأناشد فيكم رب العالمين، فأقول: يا رب أمتي، فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك، إنهم كانوا يمشون القهقرى بعدك. فلا أعرفن أحدكم يأتي يوم القيامة يحمل شاة لها ثغاء ينادي: يا محمد، يا محمد! فأقول: لا أملك لك من الله شيئا قد بلغت، ولا أعرفن أحدكم يأتي يوم القيامة يحمل بعيرا له رغاء ينادي: يا محمد، يا محمد! فأقول: لا أملك لك من الله شيئا قد بلغت ، ولا أعرفن أحدكم يأتي يوم القيامة يحمل فرسا له حمحمة ينادي: يا محمد، يا محمد! فأقول: لا أملك لك من الله شيئا قد بلغت، ولا أعرفن أحدكم يأتي يوم القيامة يحمل قشعا من أدم ينادي: يا محمد، يا محمد! فأقول: لا أملك لك من الله شيئا قد بلغت ".سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں تم لوگوں کو آگ سے بچانے کے لیے تمہیں کمروں سے پکڑ رہا ہوں ، لیکن تم پتنگوں اور اچھلی اڑتی ٹڈیوں کی طرح اس میں زبردستی گھسنا چاہتے ہو ، ممکن ہے کہ میں تمہاری کمروں کو چھوڑ دوں ۔ ( یاد رکھو کہ ) میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا ، تم میرے پاس متحد ہو کر اور منتشر ہو کر ( دونوں صورتوں میں ) آؤ گے ، میں تمہیں تمہارے ناموں اور علامتوں سے ایسے پہچان لوں گا جیسے کوئی آدمی اپنے اونٹوں میں گھسنے والے اجنبی اونٹ کو پہچان لیتا ہے ، لیکن تمہیں بائیں طرف دھتکار دیا جائے گا اور میں تمہارے لیے جہانوں کے پالنہار سے اپیل کرتے ہوئے کہوں گا : اے میرے رب ! میری امت ( کو بچاؤ ) ۔ جواباً کہا جائے گا : تم نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے تمہارے بعد کون کون سی بدعات رائج کر دی تھیں ، تیرے بعد انہوں نے الٹے پاؤں چلنا شروع کر دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی کو اس حال میں نہ دیکھوں کہ اس نے ممیاتی ہوئی بکری اٹھا رکھی ہو اور یہ آواز دے رہا ہو : اے محمد ! اے محمد ! ( میری معاونت کیجئیے) اور میں کہوں گا : میں تیرے لیے اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں ، میں نے تو ( تیرے تک ) پیغام پہنچا دیا تھا ۔ میں کسی کو اس حال میں نہ پہچانوں کہ اس نے بلبلاتا ہو اونٹ اٹھا رکھا ہو اور آواز دے رہا ہو : اے محمد ! اے محمد ! ( میرا سہارا بنو ) ۔ میں کہوں گا : میں تیرے لیے اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں ، میں نے تو پیغام پہنچا دیا تھا ( کہ ایسا نہ کرنا ) ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کسی نے روز قیامت ہنہناتا ہوا گھوڑا اٹھا رکھا ہو اور آواز دے رہا ہو : اے محمد ! اے محمد ! میں جواباً کہوں : میں تیرے لیے اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں ۔ میں تم میں سے کسی کو قیامت والے دن اس حالت میں نہ دیکھوں کہ پرانی کھال کا ٹکڑا اٹھا رکھا ہو اور پکار رہا ہو : اے محمد ! اے محمد ! اور میں کہہ دوں : میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں ، میں نے تو ( اللہ کا پیغام ) تیرے تک پہنچا دیا تھا ۔“
_____________________
أخرجه البزار (1 / 426 / 900) والرامهرمزي في " الأمثال " (21 - 22) من
طريقين عن مالك بن إسماعيل: حدثنا يعقوب بن عبد الله القمي عن حفص بن حميد عن
عكرمة عن ابن عباس عن عمر بن الخطاب رضوان الله عليهم قال: قال رسول الله
صلى الله عليه وسلم: فذكره. قلت: وهذا إسناد حسن، قال البزار عقبه: " لا
نعلمه عن عمر إلا بهذا الإسناد، وحفص لا نعلم روى عنه إلا القمي ". قلت: قد
روى عنه أيضا أشعث بن إسحاق، كما في " الجرح والتعديل " (1 / 2 / 171)
وروى عن ابن معين أنه قال فيه: " صالح ".
__________جزء: 6 /صفحہ: 864__________
ووثقه النسائي أيضا، وابن حبان (
6 / 196) وقال المنذري في " الترغيب " (2 / 277 - 278): " رواه أبو يعلى
والبزار، وإسنادهما جيد ". وقال الهيثمي في " المجمع " (3 / 85): " رواه
أبو يعلى في " الكبير "، والبزار، ورجال الجميع ثقات ". قلت: وأشار
بقوله: " الكبير " إلى أن لأبي يعلى مسندين: كبيرا، وصغيرا، و " الصغير "
هو المعروف اليوم، وهو الذي يطبع الآن في دمشق، وصدر منه أكثر من عشرة
أجزاء (¬1)، ومسند عمر في الأول منها، وليس الحديث فيه. وكأن الشيخ
الأعظمي في تعليقه على " البزار " لا علم عنده بـ " المسند الكبير " كما يشير
إلى ذلك قوله عقب قول الهيثمي المتقدم: ".. في الكبير "، قال الأعظمي: " (
كذا) "!