حدیث نمبر: 3643
- (أَراني اللّيلةَ عند الكعبةِ، فرأيتُ رجُلاً آدمَ، كأحسنِ ما أنتَ راءٍ من أُدمِ الرِّجالِ، له لِمَّةٌ كأحسنِ ما أنتَ راءٍ من اللِّمَم، قد رجَّلَها فهي تقطُر ماءً، متكئاً على رجُلين أو على عواتق رجلينِ، يطوفُ بالكعبةِ، فسألتُ: من هذا؟ قيل: هذا المسيحُ ابنُ مريمَ. ثمّ إذا أنا برجلٍ جَعدٍ قطَطٍ، أعور العينِ اليمنَى، كأنّها عِنّبةٌ طافية، فسألتُ: من هذا؟ فقيل لي: هذا المسيحُ الدّجالُ) .
حافظ محفوظ احمد

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں نے آج رات اپنے آپ کو خواب میں کعبہ کے پاس دیکھا ، میں نے ایک گندمی رنگ کا آدمی دیکھا تھا ، اس رنگ میں وہ انتہائی خوبصورت آدمی تھا ، اس کی بہت خوبصورت زلفیں تھیں ، اس نے کنگھی کر رکھی تھی اور ان سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ، اس نے دو آدمیوں یا دو آدمیوں کے کندھوں پر ٹیک لگا رکھی تھی اور وہ بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا ۔ میں نے پوچھا یہ آدمی کون ہے ؟ کہا گیا کہ یہ مسیح بن مریم ( ‏‏‏‏علیہ السلام ) ہیں ۔ پھر اچانک میں نے ایک اور آدمی دیکھا جو چھوٹے گھونگھریالے بالوں والا تھا ، اس کی دائیں آنکھ کانی تھی اور وہ خو شئہ انگور میں ابھرے ہوئے دا نے کی طرح لگتی تھی ۔ میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ مجھے کہا گیا کہ یہ مسیح دجال ہے ۔“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3643
- (أَراني اللّيلةَ عند الكعبةِ، فرأيتُ رجُلاً آدمَ، كأحسنِ ما أنتَ راءٍ من أُدمِ الرِّجالِ، له لِمَّةٌ كأحسنِ ما أنتَ راءٍ من اللِّمَم، قد رجَّلَها فهي تقطُر ماءً، متكئاً على رجُلين أو على عواتق رجلينِ، يطوفُ بالكعبةِ، فسألتُ: من هذا؟ قيل: هذا المسيحُ ابنُ مريمَ. ثمّ إذا أنا برجلٍ جَعدٍ قطَطٍ، أعور العينِ اليمنَى، كأنّها عِنّبةٌ طافية، فسألتُ: من هذا؟ فقيل لي: هذا المسيحُ الدّجالُ) .
_____________________

أخرجه مالك في "الموطأ" (3/107) قال: عن نافع عن عبد الله بن عمر أن رسول الله! قال: ... فذكره.
ومن طريق مالك: أخرجه البخاري (5902 و 6999)، ومسلم (1/107)، وأبو عوانة (1/149) كلهم عن مالك به.
وتابعه موسى بن عقبة: عند مسلم، وأبي عوانة.
وفليح بن سليمان: عند أحمد (2/126-127) .
وتابع نافعاً: سالم عن ابن عمر بنحوه، ولفظه صريح بأنها رؤيا منامية؛ فإنه قال:
"بينما أنا نائم؛ رأيتني أطوف بالكعبة ... ".
وقد سبق تخريجه برقم (1857) . *
__________جزء: 7 /صفحہ: 1711__________