سلسله احاديث صحيحه
الفتن و اشراط الساعة والبعث— فتنے، علامات قیامت اور حشر
باب: سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی صفات
- " طوبى لعيش بعد المسيح، طوبى لعيش بعد المسيح يؤذن للسماء في القطر ويؤذن للأرض في النبات، فلو بذرت حبك على الصفا لنبت، ولا تشاح ولا تحاسد ولا تباغض، حتى يمر الرجل على الأسد ولا يضره، ويطأ على الحية فلا تضره ولا تشاح ولا تحاسد ولا تباغض ".سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عیسیٰ علیہ السلام کے بعد والی زندگی کے لیے خوشخبری ہے ، عیسیٰ علیہ السلام کے بعد والی زندگی کے لیے خوشخبری ہے ، آسمان کو برسنے کی اور زمین کو کھیتیاں اگانے کی ( کھلی ) اجازت دی جائے گی ۔ اگر تم اس وقت صفا پہاڑی پر بھی بیج کاشت کرو گے تو وہ اگ آئے گا ۔ ( لوگوں میں ) ایک دوسرے سے فوقیت و برتری لے جانے کی کوئی تمنا نہیں ہو گی ، حسد و بغض ختم ہو جائے گا اور ( اتنا امن ہو گا کہ ) آدمی شیر کے پاس سے گزر جائے گا ، وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور آدمی سانپ کے اوپر سے گزر جائے گا ، وہ اسے کوئی تکلیف نہیں دے گا ۔ لوگوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوئی تڑپ باقی نہیں رہے گی اور نہ کوئی حسد و بغض ہو گا ۔ “
_____________________
رواه أبو بكر الأنباري في " حديثه " (ج 1 ورقة 6 / 1 - 2) قال: حدثنا جعفر
ابن محمد بن شاكر قال: حدثنا عفان قال: حدثني سليم بن حيان - إملاء من قرطاس
وسألته - قال: حدثنا سعيد بن مينا عن أبي هريرة مرفوعا.
__________جزء: 4 /صفحہ: 559__________
ومن طريق
الأنباري رواه الديلمي (2 / 161) وابن المحب في " صفات رب العالمين " (427
/ 1) وقال: " هذا على شرط خ ".
قلت: جعفر بن محمد بن شاكر لم يخرج له البخاري ولا غيره من الستة، وهو ثقة
وقد ترجمه الخطيب (7 / 185 - 187) وفي " التهذيب " أيضا ولم يرمز له بشيء
. ورواه الضياء في " المنتقى من مسموعاته بمرو " (127 / 1 - 2) من طريق أبي
جعفر البغدادي: حدثنا جعفر بن محمد به.
قلت: فالإسناد صحيح.