- " إن بين يدي الساعة تسليم الخاصة وفشو التجارة، حتى تعين المرأة زوجها على التجارة وقطع الأرحام وشهادة الزور وكتمان شهادة الحق وظهور القلم ".طارق بن شہاب کہتے ہیں : ہم سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ایک آدمی آیا اور کہا : اقامت کہی جا چکی ہے ، وہ کھڑے ہوئے اور ہم بھی کھڑے ہو گئے ، جب ہم مسجد میں داخل ہوئے تو ہم نے دیکھا کہ لوگ مسجد کے اگلے حصے میں رکوع کی حالت میں ہیں ۔ انہوں نے ”اللہ أکبر“ کہا اور ( صف تک پہنچنے سے پہلے ہی ) رکوع کیا ، ہم نے بھی رکوع کیا ، پھر ہم رکوع کی حالت میں چلے ( اور صف میں کھڑے ہو گئے ) اور جیسے انہوں نے کیا ہم کرتے رہے ۔ ایک آدمی جلدی میں گزرا اور کہا : ابو عبدالرحمٰن ! السلام علیکم ۔ انہوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا ۔ جب ہم نے نماز پڑھ لی اور واپس آ گئے ، وہ اپنے اہل کے پاس چلے گئے ۔ ہم بیٹھ گئے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے : آیا تم لوگوں نے سنا ہے کہ انہوں نے اس آدمی کو جواب دیتے ہوئے کہا : اللہ نے سچ کہا اور اس کے رسولوں نے ( اس کا پیغام ) پہنچا دیا ؟ تم میں سے کون ہے جو ان سے ان کے کئے کے بارے میں سوال کرے ؟ طارق نے کہا میں سوال کروں گا ۔ جب وہ باہر آئے تو انہوں نے سوال کیا ۔ جواباً انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قیامت سے پہلے مخصوص لوگوں کو سلام کہا جائے گا اور تجارت عام ہو جائے گی ، حتیٰ کہ بیوی تجارتی امور میں اپنے خاوند کی مدد کرے گی ، نیز قطع رحمی ، جھوٹی گواہی ، سچی شہادت کو چھپانا اور لکھائی پڑھائی ( بھی عام ہو جائے گی ) ۔“
_____________________
أخرجه أحمد (1 / 407 - 408): حدثنا أبو أحمد الزبيري، حدثنا بشير ابن سلمان
عن سيار، عن طارق بن شهاب قال:
" كنا عند عبد الله جلوسا، فجاء رجل فقال
: قد أقيمت الصلاة، فقام، وقمنا معه، فلما دخلنا المسجد، رأينا الناس
ركوعا في مقدم المسجد، فكبر، وركع، وركعنا، ثم مشينا، وصنعنا مثل الذي
صنع، فمر رجل يسرع فقال: عليك السلام يا أبا عبد الرحمن، فقال: صدق الله،
ورسوله، فلما صلينا ورجعنا، دخل إلى أهله، جلسنا، فقال بعضنا لبعض: أما
سمعتم رده على الرجل: صدق الله، وبلغت رسله، أيكم يسأله؟ فقال طارق: أنا
أسأله، فسأله حين خرج، فذكر عن النبي صلى الله عليه وسلم، فذكره.
قلت: وهذا إسناد صحيح على شرط مسلم. ثم قال أحمد (1 / 419 - 420): حدثنا
يحيى بن آدم أنبأنا بشير أبو إسماعيل به دون قوله: " وشهادة الزور..... "،
ودون قصة الركوع والمشي. وإسناده صحيح أيضا.
وخالفهما أبو نعيم حدثنا بشير بن سلمان به مثل رواية الزبيري، إلا أنه لم
يذكر: " وقطع الأرحام.... ". وقال بدلها: " وحتى يخرج الرجل بماله إلى
أطراف الأرض فيرجع فيقول: لم أربح شيئا ". أخرجه الحاكم (4 / 445 - 446) من
طريق السري بن خزيمة، حدثنا أبو نعيم. وسكت عليه هو والذهبي. وأبو نعيم
ثقة حجة وهو الفضل بن دكين. لكن الراوي عنه السري بن خزيمة لم أجد له ترجمة.
__________جزء: 2 /صفحہ: 247__________
وقد وجدت لآخر الحديث شاهدا من حديث عمرو بن تغلب: سمعت رسول الله صلى الله
عليه وسلم يقول: ".... وإن من أشراط الساعة أن يكثر التجار، ويظهر القلم "
. أخرجه الطيالسي في " مسنده " (1171): حدثنا ابن فضالة عن الحسن قال: قال
عمرو بن تغلب به. ومن طريق الطيالسي أخرجه ابن منده في " المعرفة " (2 / 59
/ 2) .
قلت: وابن فضالة - واسمه مبارك - صدوق، ولكنه يدلس، وكذلك الحسن وهو
البصري، لكن هذا قد صرح بالتحديث عن عمرو في " مسند أحمد " (5 / 69) وقد
أخرج الطرف الأول من الحديث.