حدیث نمبر: 3561
- " إذا جمع الله العباد بصعيد واحد نادى مناد: يلحق كل قوم بما كانوا يعبدون ويبقى الناس على حالهم، فيأتيهم فيقول: ما بال الناس ذهبوا وأنتم ههنا؟ فيقولون: ننتظر إلهنا، فيقول: هل تعرفونه؟ فيقولون: إذا تعرف إلينا عرفناه فيكشف لهم عن ساقه، فيقعون سجدا وذلك قول الله تعالى: * (يوم يكشف عن ساق ويدعون إلى السجود فلا يستطيعون) * ويبقى كل منافق، فلا يستطيع أن يسجد، ثم يقودهم إلى الجنة ".
حافظ محفوظ احمد

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”‏‏‏‏جب اللہ تعالیٰ بندوں کو ایک جگہ پر اکھٹا کرے گا تو منادی کرنے والا آواز دے گا : ہر کوئی اپنے اپنے معبودوں کے ساتھ مل جائے ۔ تمام لوگ اپنے اپنے معبودوں کے ساتھ مل جائیں گے ۔ کچھ لوگ اپنی سابقہ حالت پر کھڑے رہیں گے ، اللہ تعالیٰ ان کے پاس آئے گا اور پوچھے گا : کیا وجہ ہے ، لوگ چلے گئے ہیں اور تم یہیں کھڑے ہو ؟ وہ کہیں گے : ہم اپنے معبود کا انتظار کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا : کیا تم اپنے معبود کو پہچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے : اگر وہ ہمیں اپنا تعارف کروا دے تو ہم پہچان لیں گے ۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی سے پردہ اٹھائے گا ، وہ سجدہ میں گر پڑیں گے ۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول ”جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور سجدے کے لیے بلائیں جائیں گے تو ( ‏‏‏‏سجدہ ) نہ کر سکیں گے ۔“ ( ‏‏‏‏سورۂ قلم : ۴۲ ) کا یہی مصداق ہے ۔ منافق کھڑے کے کھڑے رہ جائیں گے اور سجدہ نہیں کر سکیں گے ۔ پھر اللہ تعالیٰ جنت کی طرف ان کی رہنمائی فرمائے گا ۔“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3561
- " إذا جمع الله العباد بصعيد واحد نادى مناد: يلحق كل قوم بما كانوا يعبدون ويبقى الناس على حالهم، فيأتيهم فيقول: ما بال الناس ذهبوا وأنتم ههنا؟ فيقولون: ننتظر إلهنا، فيقول: هل تعرفونه؟ فيقولون: إذا تعرف إلينا عرفناه فيكشف لهم عن ساقه، فيقعون سجدا وذلك قول الله تعالى: * (يوم يكشف عن ساق ويدعون إلى السجود فلا يستطيعون) * ويبقى كل منافق، فلا يستطيع أن يسجد، ثم يقودهم إلى الجنة ".
_____________________

أخرجه الدارمي في " سننه " (2 / 326): أخبرنا محمد بن يزيد البزاز عن يونس
ابن بكير قال: أخبرني ابن إسحاق قال: أخبرني سعيد بن يسار قال: سمعت أبا
هريرة يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: فذكره.
قلت: وهذا إسناد جيد رجاله ثقات رجال الصحيح، إلا أن ابن إسحاق إنما أخرج له
مسلم متابعة.
__________جزء: 2 /صفحہ: 129__________