حدیث نمبر: 3524
- " كل نائحة تكذب إلا أم سعد ".
حافظ محفوظ احمد

محمود بن لبید کہتے ہیں کہ جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے بازو کی رگ میں زخم لگ اور وہ بڑھ گیا ۔ لوگوں نے ان کو رفیدہ نامی عورت کے پاس منتقل کر دیا ، کیونکہ وہ زخمیوں کا علاج کرتی تھی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے پاس سے گزرتے تو پوچھتے : ”تو نے کیسی شام پائی ؟“ اور جب صبح کے وقت آتے تو کہتے ”تو نے کیسی صبح پائی ؟“ وہ اپنی صورتحال واضح کرتے ۔ یہاں تک کہ وہ رات آ گئی جس میں ان کی قوم نے انہیں وہاں سے منتقل کر دیا اور انہیں اٹھا کر بنو عبدالاشھل کے گھروں میں لے گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسب عادت ان کا حال دریافت کرنے کے لیے تشریف لائے ۔ انہوں نے بتلایا کہ وہ انہیں لے گئے ہیں ، سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل دیے اور ہم بھی آپ کے ساتھ ہو لیے ، آپ اتنی تیزی سے چلے کہ ہمارے جوتوں کے تسمے ٹوٹ گئے اور ہماری چادریں گردنوں سے گرنے لگ گئیں ، صحابہ نے آپ سے شکایت کرتے ہوئے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ نے تو ہم کو تھکا دیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں ان کو غسل دینے میں فرشتے ہم سے سبقت نہ لے جائیں ، جیسا کہ وہ اس سے پہلے خظلہ کو غسل دے چکے ہیں ۔ جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تک پہنچے تو ان کو غسل دیا جا رہا تھا اور ان کی ماں رو رہی تھی اور کہہ رہی تھی : او سعد ! تیری ماں کی ہلاکت ( ‏‏‏‏تیری ) عقلمندی اور سخاوت ( ‏‏‏‏ کے گم ہو جانے کی وجہ سے ) ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہر نوحہ کرنے والی جھوٹ بولتی ہے ، ماسوائے ام سعد کے ۔“ پھر آپ اس کی میت کو لے کر نکلے ، بعض لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا : سعد کی میت بہت ہلکی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ ہلکی کیوں نہ ہو ، کثیر تعداد میں فرشتے اترے ، اتنے فرشتے کبھی بھی نازل نہیں ہوئے ، وہ تمہارے ساتھ سعد کی میت کو اٹھا رہے تھے ۔“ آپ نے فرشتوں کی تعداد بھی بتلائی تھی ، لیکن مجھے یاد نہ رہی ۔

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المناقب والمثالب / حدیث: 3524
- " كل نائحة تكذب إلا أم سعد ".
_____________________

رواه ابن سعد (3 / 427 - 428) عن عاصم بن عمر بن قتادة عن محمود بن لبيد
قال: " لما أصيب أكحل سعد يوم الخندق فثقل، حولوه عند امرأة يقال لها رفيدة،
وكانت تداوي الجرحى، فكان النبي صلى الله عليه وسلم إذا مر به يقول: كيف
أمسيت؟ وإذا أصبح قال: كيف أصبحت؟ فيخبره، حتى كانت الليلة التي نقله قومه
فيها، فثقل، فاحتملوه إلى بني عبد الأشهل إلى منازلهم، وجاء رسول الله صلى
الله عليه وسلم، كما كان يسأل عنه، وقالوا: قد انطلقوا به، فخرج رسول الله
صلى الله عليه وسلم، وخرجنا معه، فأسرع المشي حتى تقطعت شسوع نعالنا وسقطت
أرديتنا عن أعناقنا، فشكا ذلك إليه أصحابه: يا رسول الله أتعبتنا في المشي،
فقال: إني أخاف أن تسبقنا الملائكة إليه فتغسله، كما غسلت حنظلة، فانتهى
رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى البيت وهو يغسل، وأمه تبكيه وهي تقول:
ويل أمك سعد حزامة وجدا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (فذكره) . ثم
خرج به، قال: يقول له القوم أو من شاء الله منهم: يا رسول الله ما حملنا
ميتا أخف علينا من سعد، فقال: ما يمنعكم من أن يخف عليكم، وقد هبط من
الملائكة كذا وكذا، وقد سمى عدة كثيرة لم أحفظها لم يهبطوا قط قبل يومهم قد
حملوه معكم.
__________جزء: 3 /صفحہ: 148__________

قلت: وإسناده صحيح رجاله كلهم ثقات، ومحمود بن لبيد صحابي صغير. وللحديث
شاهد من حديث عامر بن سعد عن أبيه مرفوعا. أخرجه ابن سعد (3 / 429) . لكن
شيخه محمد بن عمر وهو الواقدي متروك. ثم روى (3 / 429 - 430) له شاهدا من
مرسل سعد بن إبراهيم. وإسناده حسن.