سلسله احاديث صحيحه
المناقب والمثالب— فضائل و مناقب اور معائب و نقائص
باب: سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی کرامت
- " بعثني إلى [قومي] (باهلة) ، [فانتهيت إليهم وأنا طاو] ، فأتيت وهم على الطعام، (وفي رواية: يأكلون دما) ، فرجعوا بي وأكرموني، [قالوا: مرحبا بالصدي بن عجلان، قالوا: بلغنا أنك صبوت إلى هذا الرجل. قلت: لا ولكن آمنت بالله وبرسوله، وبعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إليكم أعرض عليكم الإسلام وشرائعه] وقالوا: تعال كل. فقلت: [ويحكم إنما] جئت لأنهاكم عن هذا، وأنا رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم أتيتكم لتؤمنوا به، [فجعلت أدعوهم إلى الإسلام] ، فكذبوني وزبروني، [فقلت لهم: ويحكم ائتوني بشيء من ماء فإني شديد العطش. قال: وعلي عمامتي، قالوا: لا ولكن ندعك تموت عطشا!] ، فانطلقت وأنا جائع ظمآن قد نزل بي جهد شديد. [قال: فاغتممت ، وضربت رأسي في العمامة] فنمت [في الرمضاء في حر شديد] فأتيت في منامي بشربة من لبن [لم ير الناس ألذ منه، فأمكنني منها] ، فشربت ورويت وعظم بطني. فقال القوم: أتاكم رجل من خياركم وأشرافكم فرددتموه، فاذهبوا إليه فأطعموه من الطعام والشراب ما يشتهي. فأتوني بطعام! قلت: لا حاجة لي في طعامكم وشرابكم، فإن الله قد أطعمني وسقاني، فانظروا إلى الحال التي أنا عليها، [فأريتهم بطني] ، فنظروا، فآمنوا بي وبما جئت به من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ، [فأسلموا عن آخرهم] ".سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میری قوم ” باہلہ “ کی طرف ( بحیثیت مبلغ ) بھیجا ، جب میں ان کے پاس پہنچا تو بھوکا تھا اور وہ اس وقت کھانا کھا رہے تھے ، ( ایک روایت میں ہے کہ خون کھا رہے تھے ) ۔ وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور میری عزت و آبرو کی ، انہوں نے کہا : صدی بن عجلان کو خوش آمدید ۔ انہوں نے کہا : ہمیں یہ خبر موصول ہوئی ہے کہ تم اس آدمی ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف مائل ہو گئے ہو ( کیا بات اسی طرح ہے ) ؟ میں نے کہا : نہیں نہیں ۔ میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لایا ہوں اور اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( قاصد بنا کر ) بھیجا ہے تاکہ تم پر اسلام اور اس کے شرعی قوانین پیش کروں ۔ انہوں نے کہا : آؤ کھانا کھاؤ ۔ میں نے کہا : تمہارا ستیاناس ہو ، میں تو تمہیں اس ( قسم کے کھانوں سے ) منع کرنے کے لیے آیا ہوں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں ، میں تمہارے پاس آیا ہوں تاکہ تم لوگ مومن بن جاؤ ۔ میں انہیں دعوت اسلام دیتا رہا اور وہ مجھے جھٹلاتے اور جھڑکتے رہے ۔ میں نے انہیں کہا : تمہارا ناس ہو ، میں سخت پیاسا ہوں ، پانی تو پلاؤ ، اس وقت میرے پاس ایک پگڑی بھی رکھی ہوئی تھی ۔ انہوں نے کہا : نہیں ۔ ہم تجھے یوں ہی چھوڑے رکھیں گے ، حتیٰ کہ تو مر جائے گا ۔ میں سخت بھوک اور پیاس کی حالت میں وہاں سے چل دیا ، میں اس وقت بری طرح تھک ہار چکا تھا اور دم گھٹ رہا تھا ، میں نے اپنا سر پگڑی میں دیا اور گرمی کی شدت میں تپتی ہوئی زمین پر سو گیا ، خواب میں میرے پاس دودھ لایا گیا ( اور اتنا لذیذ کہ ) لوگوں نے اس جیسا لذت والا دودھ نہیں دیکھا ہو گا ، مجھے اس کو پینے کا موقع دیا گیا ، میں نے پیا اور سیراب ہو گیا اور میرا پیٹ بڑا ہو گیا ۔ لوگوں نے کہا : تمہارے پاس ایک اعلی و اشرف آدمی آیا تھا ، لیکن تم نے ( اس کی کوئی عزت نہیں کی ) اور اسے دھتکار دیا ، جاؤ اور اسے اس کی چاہت کے مطابق کھانا کھلاؤ اور مشروب پلاؤ ۔ وہ میرے پاس کھانا لائے ، لیکن میں نے کہا : مجھے تمہارے کھانے پینے کی کوئی ضرورت نہیں ، اللہ تعالیٰ نے مجھے کھلایا بھی ہے اور پلایا بھی ہے ۔ یہ میرا وجود دیکھ لو ۔ پھر میں نے ان کو اپنا ( سیر و سیراب ) پیٹ دکھایا ، جب انہوں نے یہ ( کرامت ) صورتحال دیکھی تو وہ مجھ پر اور جو کچھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لایا تھا ، اس پر ایمان لے آئے اور سارے کے سارے مسلمان ہو گئے ۔
_____________________
هو من حديث أبي أمامة رضي الله عنه يرويه عنه أبو غالب، وله عنه ثلاث طرق
: الأولى: عن الحسين بن واقد عن أبي غالب عن أبي أمامة قال: بعثني رسول الله
صلى الله عليه وسلم إلى باهلة.. الحديث. أخرجه الطبراني في " المعجم الكبير "
(8099): حدثنا محمد بن عبدوس بن كامل السراج حدثنا محمد بن علي بن الحسن بن
شقيق حدثنا أبي حدثنا حسين بن واقد.
__________جزء: 6 /صفحہ: 460__________
قلت: وهذا إسناد حسن للخلاف المعروف في
أبي غالب. الثانية: عن صدقة بن هرمز القسملي عن أبي غالب نحوه، وفيه
الزيادة الأولى والثانية، والرواية الثانية وغيرها. أخرجه الطبراني (8073
) وأبو يعلى أيضا كما في " الإصابة "، وسكت عليه، والحاكم (3 / 641 - 642
) وسكت عليه أيضا، وتعقبه الذهبي بقوله: " وصدقة ضعفه ابن معين ". قلت:
ووثقه ابن حبان، فمثله يستشهد به. الثالثة: عن بشير بن سريج عن أبي غالب به
نحوه. وفيه الزيادة الثالثة والرابعة والخامسة وغيرها. أخرجه الطبراني (
8074) . وقال الهيثمي في " المجمع " (9 / 387): " وفيه بشير بن سريج وهو
ضعيف "، وقال في الطريق الأولى والثانية: " رواه الطبراني بإسنادين،
وإسناد الأول حسن ".