سلسله احاديث صحيحه
العلم والسنة والحديث النبوي— علم سنت اور حدیث نبوی
باب: فتنوں سے نجات کیسے ممکن ہے؟
- (إنَّها ستكونُ فتنةٌ. فقالوا: كيف لنا يا رسول الله؟! أو كيف نصنعُ؟ قال: ترجعون إلى أمْرِكم الأوَّلِ) .سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جبکہ ہم فرش ( یا چٹائی ) پر بیٹھے ہوئے تھے : ”بیشک عنقریب فتنہ ہو گا ۔ “ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اس میں ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ چٹائی کی طرف لمبا کیا اور اس کو پکڑ لیا اور فرمایا : ” اس طرح کرنا ۔ “ پھر ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک عنقریب فتنہ ہو گا ۔ “ لیکن اکثر لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نہ سن سکے ۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو ! تم سن نہیں رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا: کیا فرمایا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک عنقریب فتنہ ہو گا ۔ “ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہمارے لیے کیا حکم ہے یا ہم اس وقت کیا کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے پہلے معاملے کی طرف لوٹ آنا ۔ “
_____________________
أخرجه الطبراني في "المعجم الكبير" (3/ 181- 182) و"الأوسط " (2/249/8843) من طريق عبد الله بن صالح: حدثني الليث عن عَيَّاش بن عَبَّاس القِتْبَاني عن بُكَيْرٍ بن عبد الله بن الأشَجِّ أن بُسْرَ بن سعيد حدثه أن أبا واقد
الليثي قال: إن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال- ونحن جلوس على بساط-:
"إنها ستكون فتنة"، قالوا: وكيف نفعل يا رسول الله؟! فرد يده إلى البساط وأمسك به، فقال:
"تفعلون هكذا ".
وذكر لهم يوماً: "أنها ستكون فتنة"، فلم يسمعه كثير من الناس، فقال معاذ
ابن جبل: ألا تسمعون ما يقول رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؟! فقالوا: ما قال؟! قال: ...
فذ كره. وقال:
"لا يروى عن أبي واقد إلا من حديث بكير".
قلت: وهو ثقة من رجال الشيخين، وكذلك سائر رجال الإسناد ثقات رجال "الصحيح "؛ إلا أن عبد الله بن صالح فيه ضعف، لكنه قد توبع:
فقال الطحاوي في "مشكل الآثار" (2/68): حدثنا يونس بن عبد الأعلى:
ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير: حدثني الليث به.
قلت: وهذا إسناد صحيح رجاله كلهم ثقات رجال مسلم، فصح الحديث،
والحمد لله تعالى.
(تنبيه): بُسْر بن سعيد- وهو العابد المدني- تحرف في "المشكل " إلى "بشير
ابن سعد"! فقال المعلق عليه:
" لعله بشير بن سعد بن النعمان، شهد أحداً وغيرها مع أبيه، كما في
" التجريد ... " ... "!
قلت: هذا أبعد ما يكون عن التحقيق؛ وذلك لأمور:
__________جزء: 7 /صفحہ: 497__________
أولاً: أن بشيراً هذا لم يذكروا له رواية.
ثانياً: أنه وقع على الصواب في "المعجمين ": بسر بن سعيد؛ كما تقدم.
ثالثاً: أنهم ذكروه - أعني بسراً - في شيوخ بكير بن الأشج، لكنه وقع في "تهذيب الكمال" للمزي: "بِِشر بن سعيد" هكذا مقيداً بكسر الباء! ثم صُحِّحَتْ في الطبعة الجديدة. *
المؤاخاة بين المهاجرين أنفسهم