حدیث نمبر: 3393
- (خيرُ الرِّجالِ رِجالُ أهْلِ اليمنِ، والإيمانُ يمانٍ إلى لَخْمٍ وجُذَامٍ وعاملةَ، ومأكولُ حِميرَ خيرٌ من آكلِها، وحَضْرَموتُ خيرٌ من بني الحارث، وقبيلةٌ خيرٌ من قبيلةٍ، وقبيلةٌ شرٌّ من قبيلةٍ، واللهِ! ما أبالي أن يَهْلِكَ الحارثانِ كلاهُما، لعنَ الله الملوكَ الأربعةَ: جَمدَاءَ، ومِخْوَسَاءَ، ومِشْرَحَاء، وأبْضَعَةَ، وأُخْتَهُم العمَرَّدَةَ. ثُمَّ قَالَ: أمَرَني ربِّي عز وجل أن ألعنَ قريشاً مرّتين، فلعنتُهم، فأمرني أن أُصلّيَ عليهم؛ فصلَيتُ عليهم مرتين. ثم قال: "عصيَّةُ عصتِ الله ورسولَه؛ غير قيْسٍ وجعْدَة وَعُصَيَّةَ (¬1) . ثم قال: لأسْلمُ، وغِفَارُ، ومزينةُ، وأخلاطُهم من جُهَيْنَةَ: خَيْرٌ من بني أسدٍ وتميم وغَطَفَانَ وهَوَازِنَ عندَ الله عزّ وجلّ يوم القيامة. ثم قال: شرُّ قبيلتين في العرب: نَجْرَان وَبنُو تَغْلِب، وأكثرُ القبائل في الجنة مَذحجُ ومَأكُولٌ) .
حافظ محفوظ احمد

سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن گھوڑا پیش کر رہے تھے آپ کے پاس عیینہ بن حصن بن بدر فزاری تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا : ” میں تیری بہ نسبت گھوڑوں کے امور کا زیادہ ماہر ہوں ۔ “ عیینہ نے کہا : میں آپ کی بہ نسبت مردوں کے امور کا زیادہ ماہر ہوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : ” وہ کیسے ؟ “ اس نے کہا : نجدی لوگ سب سے بہتر ہیں انہوں نے اپنی تلواریں اپنے کندھوں پر اٹھا رکھی ہیں ، اپنے نیزوں کو اپنے گھوڑوں پر سجا رکھا ہے اور دھاری دار چادریں زیب تن کر رکھی ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو نے خلاف حقیقت بات کی ہے ، یمنی لوگ سب سے بہتر ہیں ، ایمان تو یمنی قبائل : لخم ، جزام اور عاملہ میں پایا جاتا ہے ، حمیر کا ماکول قبیلہ آکل سے بہتر ہے اور حضرموت ، بنوحارث سے بہتر ہے ( ‏‏‏‏اور ایسے ہوتا رہتا ہے کہ ) ایک قبیلہ دوسرے کی بہ نسبت اچھا ہوتا ہے اور ایک قبیلہ دوسرے کی بہ نسبت برا ہوتا ہے ۔ اللہ کی قسم ! مجھے حارث کے دونوں قبائل کے ہلاک ہو جانے کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان چار بادشاہوں پر لعنت کی ہے : جمداء ، مخوساء ، مشرخاء ، ابضعہ اور ان کی بہن عمردہ ۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے رب نے مجھے حکم دیا کہ میں قریشیوں پر دو دفعہ لعنت کروں اور پھر مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے دعائے رحمت کروں ، سو میں نے ان کے حق میں دو دفعہ دعائے رحمت کی ۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عصیہ ، قیس اور جعدہ قبیلوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں اسلم ، غفار مزینہ اور ان کے جہینہ سے ملے جلے قبائل ان قبائل سے بہتر ہوں گے : بنواسد ، تمیم ، غطفان اور ہوازن ۔ “ پھر فرمایا : ” نجران اور بنوتغلب عرب کے بدترین قبائل ہیں اور ( ‏‏‏‏دوسرے قبائل کی بہ نسبت ) مذحج اور ماکول قبیلوں کی تعداد سب سے زیادہ جنت میں جائے گی ۔ “

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المناقب والمثالب / حدیث: 3393
- (خيرُ الرِّجالِ رِجالُ أهْلِ اليمنِ، والإيمانُ يمانٍ إلى لَخْمٍ وجُذَامٍ وعاملةَ، ومأكولُ حِميرَ خيرٌ من آكلِها، وحَضْرَموتُ خيرٌ من بني الحارث، وقبيلةٌ خيرٌ من قبيلةٍ، وقبيلةٌ شرٌّ من قبيلةٍ، واللهِ! ما أبالي أن يَهْلِكَ الحارثانِ كلاهُما، لعنَ الله الملوكَ الأربعةَ: جَمدَاءَ، ومِخْوَسَاءَ، ومِشْرَحَاء، وأبْضَعَةَ، وأُخْتَهُم العمَرَّدَةَ. ثُمَّ قَالَ: أمَرَني ربِّي عز وجل أن ألعنَ قريشاً مرّتين، فلعنتُهم، فأمرني أن أُصلّيَ عليهم؛ فصلَيتُ عليهم مرتين. ثم قال: "عصيَّةُ عصتِ الله ورسولَه؛ غير قيْسٍ وجعْدَة وَعُصَيَّةَ (¬1) . ثم قال: لأسْلمُ، وغِفَارُ، ومزينةُ، وأخلاطُهم من جُهَيْنَةَ: خَيْرٌ من بني أسدٍ وتميم وغَطَفَانَ وهَوَازِنَ عندَ الله عزّ وجلّ يوم القيامة. ثم قال: شرُّ قبيلتين في العرب: نَجْرَان وَبنُو تَغْلِب، وأكثرُ القبائل في الجنة مَذحجُ ومَأكُولٌ) .
_____________________

أخرجه الإمام أحمد (4/ 387) والسياق له، والحاكم (4/81) من طريق عبد الرحمن بن عائذ الأزدي عن عمرو بن عَبَسَة السُّلَمِيِّ قال:
كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يعرض يوماً خيلاً، وعنده عُيَيْنَةُ بن حِصْن بن بدر الفَزَاري، فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "أنا أفرس بالخيل منك "، فقال عُيَيْنَةُ وأنا أفرس بالرجال منك، فقال له النبي - صلى الله عليه وسلم -: "وكيف ذاك؟ "، قال: خير الرجال رجال يحملون سيوفهم على عواتقهم، جاعلين رماحهم على مناسج خيولهم، لابسو البرود من أهل نجد، فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -:
"كذبت، بل خير الرجال رجال أهل اليمن.. " الحديث.
وقال الحاكم:
"غريب المتن، صحيح الإسناد"، ووافقه الذهبي، وهو كما قالا.
¬
__________
(¬1) كذا الأصل، وكذا في"المجمع"برواية أحمد، وفي" المستدرك ": "وعصمة ".
__________جزء: 7 /صفحہ: 342__________

وأخرج النسائي في "السنن الكبرى" (5/92/8351) الجملة الأخيرة منه، دون قوله: " ومأكول ... ".
ثم رواه أحمد من طريق يزيد بن يزيد بن جابر، عن رجل، عن عمرو بن عبسة قال " فذكره مختصراً، وفيه:
"وما أبالي أن يهلك الحيان كلاهما، فلا قيل ولا مُلْكَ إلا لله عز وجل ... ".
وقال الهيثمي عقبه (10/43):
"رواه أحمد متصلاً، مرسلاً والطبراني، وسمى الثاني: بسر بن عبيد الله. ورجال الجميع ثقات ".
وله شاهد نحو الرواية الأولى مختصراً: أخرجه الطبراني في "المعجم الكبير" (20/98/192) من طريق عبد الرزاق: أخبرني ثور بن يزيد عن
خالد بن معدان عن معاذ بن جبل ... فذكره نحوه.
قلت: وهذا إسناد رجاله ثقات؛ إلا أن خالد بن معدان لم يسمع من معاذ، كما قال الهيثمي (¬1) .