- " إن قريشا أهل أمانة، لا يبغيهم العثرات أحد إلا كبه الله عز وجل لمنخريه ".زید بن عبدالرحمٰن بن سعید بن عمرو بن نفیل ، جن کا بنو عدی قبیلہ سے تعلق ہے ، اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : میں کچھ قریشی جوانوں سمیت سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اس وقت وہ نابینا ہو چکے تھے ۔ ہم نے دیکھا کہ چھت کے ساتھ ایک رسی لٹک رہی تھی اور اس کے سامنے روٹیاں یا ان کے ٹکڑے پڑے تھے ۔ جب کوئی مسکین کھانا مانگتا ہے تو سیدنا جابر ایک ٹکڑا اٹھاتے ، رسی کو پکڑ کر اس کی رہنمائی میں مسکین تک پہنچتے ، اسے وہ ٹکڑا تھماتے اور رسی کی رہنمائی میں ہی واپس آ کر بیٹھ جاتے تھے ۔ میں نے کہا : اللہ آپ کو صحت و عافیت سے نوازے ، ہم یہ ٹکڑا ( آسانی سے ) مسکین کو پکڑا سکتے تھے ( آپ نے ہمیں کہہ دینا تھا ، خود کیوں تکلیف کی ہے ) ۔ انہوں نے کہا : دراصل میں اجر و ثواب کی نیت سے چل کر گیا ہوں ، پھر کہا : کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی حدیث بیان نہ کروں ، جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سے خود سنی ؟ ہم نے کہا : کیوں نہیں ، ( ضرور بیان کیجئیے) ۔ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک قریشی امانت والے ہیں ، جو آدمی ان کے عیوب کی ٹوہ میں پڑ جائے گا ، اللہ تعالیٰ اسے نتھنوں کے بل ( اوندھے منہ ) گرا دے گا ۔“
_____________________
رواه ابن عساكر (3 / 320 / 1 - 2) عن السور بن عبد الملك بن عبيد بن سعيد بن
يربوع المخزومي عن زيد بن عبد الرحمن بن سعيد بن عمرو بن نفيل من بني عدي عن
أبيه قال: جئت جابر بن عبد الله الأنصاري في فتيان من قريش، فدخلنا عليه
بعد أن كف بصره، فوجدنا حبلا معلقا في السقف وأقراصا مطروحة بين يديه أو خبزا
، فكلما استطعم مسكين قام جابر إلى قرص منها وأخذ الحبل حتى يأتي المسكين
فيعطيه، ثم يرجع بالحبل حتى يقعد، فقلت له: عافاك الله نحن إذا جاء المسكين
أعطينا، فقال: إني أحتسب
__________جزء: 4 /صفحہ: 260__________
المشي في هذا. ثم قال: ألا أخبركم شيئا سمعته من
رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالوا: بلى، قال: سمعته يقول: فذكره.
قلت: وهذا إسناد ضعيف لم أعرف أحد من رواته غير صحابيه، وأخشى أن يكون وقع
في نسخه " التاريخ " تصحيف. والله أعلم. ثم تبين لي أن الرجل الأدنى هو
المسور ووقع فيه السور! - ذكره الذهبي في " الميزان " وقال: " ليس بالقوي،
قاله الأزدي ". وكذا في " اللسان ". وأورده ابن أبي حاتم في " كتابه " من
رواية جمع من الثقات عنه، فمثله حسن الحديث في المتابعات والشواهد. وقد
وجدت له شاهدا من حديث رفاعة بن رافع مرفوعا به، وفي أوله زيادة أوردته من
أجلها في " الضعيفة " (1716) لجهالة في إسناده، فالحديث بمجموعهما حسن كما
ذكرت هناك. والله أعلم.