حدیث نمبر: 3338
(استوصوا بالأنصار خيرا- أو قال: معروفا-؛ اقبلوا من محسنهم، وتجاوزوا عن مسيئهم) .
حافظ محفوظ احمد

علی بن زید کہتے ہیں کہ انصار کے سردار کی طرف سے مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ کو کوئی ( ‏‏‏‏قابل اعتراض ) بات پہنچی ، انہوں نے اسے برا بھلا کہنے کا ارادہ کیا ، اتنے میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ آ گئے اور اسے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ”انصار صحابہ کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت قبول کرو ، ان میں سے نیکی کرنے والوں سے حسن سلوک کرو اور غلطی کرنے والوں سے درگزر کرو ۔“ ( ‏‏‏‏ یہ سن کر ) سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو چارپائی سے نیچے گرا دیا اور اپنے رخسار کو زمین پر رکھ دیا اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سر آنکھوں پر ۔ پھر انصاری کو چھوڑ دیا ۔

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المناقب والمثالب / حدیث: 3338
(استوصوا بالأنصار خيرا- أو قال: معروفا-؛ اقبلوا من محسنهم، وتجاوزوا عن مسيئهم) .

أخرجه أحمد (3/ 241) قال: ثنا مؤمل: ثنا حماد- يعني: ابن سلمة-: ثنا على بن زيد قال:
بلغ مصعب بن الزبير عن عريف الأنصار شيء؛ فهم به، فدخل عليه أنس ابن مالك، فقال له:
سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: ... فذكره. فألقى مصعب نفسه عن سريره؛ وألزق خده بالبساط، وقال:
أمر رسول الله - صلى الله عليه وسلم -على الرأس والعين؛ فتركه.
قلت: وهذا إسناد ضعيف؛ من أجل مؤمل- وهو ابن إسماعيل-، وعلي بن زيد- وهو ابن جدعان-.

__________جزء: 7 /صفحه: 1463__________

لكن الحديث له شواهد كثيرة تدل على أنه له أصلا، تقدم بعضها برقم (916 و917 و3430) . *