- " أتعلم أول زمرة تدخل الجنة من أمتي؟ قلت: الله ورسوله أعلم، فقال: المهاجرون يأتون يوم القيامة إلى باب الجنة ويستفتحون، فيقول لهم الخزنة: أو قد حوسبتم؟ فيقولون: بأي شيء نحاسب وإنما كانت أسيافنا على عواتقنا في سبيل الله حتى متنا على ذلك؟ قال: فيفتح لهم، فيقيلون فيه أربعين عاما قبل أن يدخلها الناس ".سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا آپ کو میری امت کی اس جماعت کے بارے میں علم ہے جو سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گی ؟ میں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وہ جماعت مہاجرین کی ہے ۔ وہ روز قیامت جنت کے دروازے پر آ کر دروازے کھولنے کا مطالبہ کریں گے ۔ دربان ان سے پوچھے گا : آیا تمہارا حساب و کتاب ہو چکا ہے ؟ وہ کہیں گے : کس موضوع پر ہم سے حساب کتاب لیا جائے ؟ اللہ تعالیٰ کے راستے میں مرتے دم تک ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر رہیں ، سو وہ ان کے لیے دروازہ کھول دے گا اور وہ ( داخل ہو کر ) عام لوگوں کے داخلے سے پہلے چالیس سال کا قیلولہ بھی کر چکے ہوں گے ۔“
_____________________
أخرجه الحاكم (2 / 70) من طريق عياش بن عباس عن أبي عبد الرحمن الحبلي عن
عبد الله بن عمرو رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
فذكره. وقال: " صحيح على شرط الشيخين " ووافقه الذهبي.
وأقول: إنما هو على شرط مسلم فقط، فإن عياشا هذا إنما أخرج له البخاري في
" جزء القراءة ".