حدیث نمبر: 332
- (إنِّي لكم فرَطٌ على الحوض، فإيّاي! لا يأتينّ أحدكم فيُذَبَّ عنِّي كما يُذبُّ البعير الضال، فأقول: فيم هذا؟ فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك؟! فأقول: سُحْقاً) .
حافظ محفوظ احمد

زوجہ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ان کے غلام عبداللہ بن رافع بیان کرتے ہیں ، وہ کہتی ہیں : میں لوگوں کو حوض کا تذکرہ کرتے ہوئے سنتی رہتی تھی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس موضوع پر کوئی حدیث براہ راست نہیں سنی تھی ، ایک دن میری لونڈی میری گنگھی کر رہی تھی ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا : ”لوگو !“ ، میں نے لونڈی سے کہا: پیچھے ہٹ جاؤ ۔ اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو بلایا ہے نہ کہ عورتوں کو ۔ میں نے کہا: ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلایا ہے اور ) میں بھی ان میں سے ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں حوض پر تم لوگوں کا پیش رو ہوں گا ۔ میری اطاعت کرتے رہنا ! کہیں ایسا نہ ہو کہ تم وہاں میرے پاس پہنچو اور تمہیں بھٹکے ہوئے اونٹ کی طرح ( مجھ سے دور ) دھتکار دیا جائے ۔ میں پوچھوں : ایسے کیوں ہو رہا ہے ؟ مجھے جواباً کہا: جائے : آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کون کون سی بدعات رائج کر دی تھیں ۔ (یہ سن کر ) میں کہوں گا : بربادی ہو ۔“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / العلم والسنة والحديث النبوي / حدیث: 332
- (إنِّي لكم فرَطٌ على الحوض، فإيّاي! لا يأتينّ أحدكم فيُذَبَّ عنِّي كما يُذبُّ البعير الضال، فأقول: فيم هذا؟ فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك؟! فأقول: سُحْقاً) .
_____________________

أخرجه مسلم (7/67)، والنسائي في "التفسير- الكبرى" (13/16/18173-تحفة الأشراف)، وأحمد (6/297)، والطبراني في "المعجم الكبير" (23/297 و413) عن عبد الله بن رافع مولى أم سلمة زوج النبي - صلى الله عليه وسلم -أنها قالت:
كنت أسمع الناس يذكرون الحوض؛ ولم أسمع ذلك من رسول الله - صلى الله عليه وسلم -،
فلما كان يوماً من ذلك والجارية تمشطني، فسمعت رسول الله يقول:
"أيها الناس! ".
فقلت للجارية: استأخري عني؛ قالت: إنما دعا الرجال، ولم يدعُ النساء! فقلت: إني من الناس! فقال رسول الله- صلى الله عليه وسلم -: ... فذكره. والسياق لمسلم؛ ولفظ أحمد:
"أيها الناس! بينما أنا على الحوض؛ جيء بكم زُمراً، فتفرقت بكم الطرق، فناديتكم: ألا هلموا إلى الطريق! فنادى مناد من بعدي: إنهم قد بدلوا بعدك، فقلت: ألا سحقاً! ألا سحقاً! ".
وإسناده جيد على شرط مسلم.
والحديث في "زوائد الجامع للسيوطي " برواية مسلم فقط؛ وقد سبقت الإشارة إليها تحت الحديث (2948) . *