- (إنّ الله لا يحبّ هذا وضَرْبَهُ (¬1) ؛ يلوُون ألسنتَهم للنّاس ليّ البقرة لسانَها بالمرعى! كذلك يلوي الله ألسنتهم ووجوهَهم في النّارِ) .سیدنا واثلہ بن اسقع سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : میں اصحاب صفہ میں سے تھا ، میں نے یہ دیکھا کہ ہمارا یہ حال تھا کہ ہم میں سے کسی شخص کے پاس مکمل لباس نہیں تھا اور گرد و غبار اور میل کچیل کی وجہ سے پسینے سے ہمارے جسم پر لکیریں پڑ جاتی تھیں ۔ ( ایک دن ) اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ”فقراء مہاجرین کے لیے خوشخبری ہو ۔“ ہمارے پاس اچانک ایک اچھے لباس والا آدمی آیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو بھی کلام ارشاد فرماتے ، وہ تکلف کے ساتھ آپ کی کلام سے افضل کلام کرتا ۔ جب وہ چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بیشک اللہ تعالیٰ اس کو اور اس جیسے شخص کو ناپسند کرتا ہے ۔ یہ چراگاہ میں چرنے والی گائیوں کی طرح اپنی زبانوں کو لوگوں کے لیے مروڑتے ہیں ، اللہ تعالیٰ بھی ان کے چہروں اور زبانوں کو آگ میں مروڑے گا ۔“
_____________________
أخرجه الطبراني في "المعجم الكبير" (22/70/170) من طريق أبي مسهر وهشام بن عمار قالا: ثنا صدقة بن خالد قال: حدثني زيد بن واقد عن بسر بن عبيد الله عن واثلة بن الأسقع قال:
¬
__________
(¬1) أي: صنفه ونوعه. وفي "الشعب ": "حزبه "! وفي الأصل: "وصوته "!
__________جزء: 7 /صفحہ: 1262__________
كنت في أصحاب الصُّفة، فلقد رأيتنا وما منا إنسان عليه ثوب تامٌ، وأخذ العرق في جلودنا طرفاً (¬1) من الغبار والوسخ؛ إذ خرج علينا رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، فقال:
"ليبشر فقراء المهاجرين ".
إذ أقبل رجل عليه شارة حسنة، فجعل النبي - صلى الله عليه وسلم - لا يتكلم بكلام إلا كلفته نفسه [أن] يأتي بكلام يعلو كلام النبي - صلى الله عليه وسلم -! فلما انصرف قال: ... فذكره.
وروى منه أبو نعيم في "حلية الأولياء" (2/ 21- 22) الطرف الأول إلى جملة البشارة، والبيهقي في "شعب الإيمان " (4/ 251/4973) ما بعدها.
قلت: والإسناد صحيح، رجاله ثقات رجال البخاري. وقال المنذري في " الترغيب " (4/93/41):
"رواه الطبراني بأسانيد؛ ورجال أحدها رجال (الصحيح) "!
ونحوه قول الهيثمي (10/ 261):
"رواه الطبراني بأسانيد، ورجال أحدهما رجال (الصحيح) "!
وقولهما: " بأسانيد" موهم، وإنما هما طريقان عن صدقة بن خالد؛ كما تقدم. *