سلسله احاديث صحيحه
المناقب والمثالب— فضائل و مناقب اور معائب و نقائص
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کا زمانہ سب سے بہترین تھا
- " خير أمتي القرن الذين بعثت فيهم، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم - والله أعلم أذكر الثالث أم لا - ثم يظهر قوم يشهدون ولا يستشهدون وينذرون ولا يوفون ويخونون ولا يؤتمنون، ويفشو فيهم السمن ".سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میری امت کے بہترین افراد وہ ہیں جن میں مجھے مبعوث کیا گیا ، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے ، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے ۔“ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ تیسری دفعہ کا ذکر کیا تھا یا نہیں ۔ ” پھر ایسے لوگ آئیں گے جو گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی ، وہ نذریں مانیں گے لیکن ان کو پورا نہیں کریں گے ، وہ خیانت کریں گے اور امانت دار نہیں ہوں گے اور ان میں ( دنیوی لذتوں میں رغبت کی وجہ سے ) موٹاپا عام ہو گا ۔“
_____________________
أخرجه مسلم (7 / 186) وأبو داود (2 / 265) والطيالسي (ص 114 رقم 852)
وأحمد (4 / 426 و 440) عن قتادة عن زرارة بن أبي أوفى عن عمران بن حصين
مرفوعا. وأخرجه الترمذي (2 / 35) أيضا من هذا الوجه وقال: " حسن صحيح ".
وله طرق أخرى، فأخرجه البخاري (7 / 4 - 6 و 5 / 197 - 198 و 11 / 491)
وكذا مسلم (7 / 185 - 186) والنسائي (2 / 143) والطيالسي (ص 113 رقم
841) وأحمد (4 / 427 و 436) عن شعبة سمعت أبا جمرة حدثني زهدم بن مضرب عن
عمران به. وقال بعضهم: " خيركم قرني إلخ ... ". وله طريق أخرى بلفظ: خير
الناس. ويأتي إن شاء الله تعالى. وله شاهد بلفظ: " خير أمتي قرني منهم،
ثم الذين يلونهم - ولا أدري أذكر الثالث أم لا - ثم تخلف أقوام يظهر فيهم
السمن، يهريقون الشهادة ولا يسألونها ".