سلسله احاديث صحيحه
المناقب والمثالب— فضائل و مناقب اور معائب و نقائص
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کا زمانہ سب سے بہترین تھا
- " خير أمتي قرني منهم، ثم الذين يلونهم - ولا أدري أذكر الثالث أم لا - ثم تخلف أقوام يظهر فيهم السمن، يهريقون الشهادة ولا يسألونها ".ابونضرہ ، عبداللہ بن مولہ سے بیان کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ میں اہواز میں چل رہا تھا ، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی میرے آگے آگے خچر پر سوار ہو کر یوں کہتے ہوئے جا رہا تھا : اے اللہ ! اس امت میں سے میرا زمانہ ختم ہو گیا ہے ، اب تو مجھے ان ( فوت شدگان سلف ) کے ساتھ ملا دے ۔ میں نے پیچھے سے کہا : اور میں بھی ( یعنی مجھے اپنی دعا میں شامل کرو ) ، تاکہ ( میں بھی ) تیری دعا میں شریک ہو سکوں ۔ اس نے کہا : اور میرا یہ ساتھی بھی ، اگر اس کا ارادہ ہے تو ۔ پھر اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میری امت کے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جو میرے زمانے میں ( میرے ہم عصر ) ہیں ، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے ۔ مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ تیسری دفعہ فرمائے یا نہیں ۔ پھر ایسے نااہل لوگ پیدا ہوں گے کہ جن میں ( دنیوی لذتوں میں رغبت کی وجہ سے ) موٹاپا ظاہر ہو گا ( یعنی وہ قسما قسم کے کھانے کھانا پسند کریں گے ) اور وہ مطالبے سے پہلے ( جھوٹی ) شہادتیں دینے میں جلدبازی سے کام لیں گے ۔“ خچر پر سوار آدمی سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے ۔
_____________________
أخرجه أحمد (5 / 350): حدثنا إسماعيل عن الجريري عن أبي نضرة عن عبد الله بن
مولة قال: بينما أنا أسير بالأهواز إذا أنا برجل يسير بين يدي على بغل أو بغلة
، فإذا هو يقول: اللهم ذهب قرني من هذه الأمة، فألحقني بهم، فقلت: وأنا
فأدخل في دعوتك، قال: وصاحبي هذا إن أراد ذلك. ثم قال: قال رسول الله صلى
الله عليه وسلم: فذكره. قال: وإذا هو بريدة الأسلمي. ثم رواه (5 /
357) من طريق حماد بن سلمة عن الجريري به عن عبد الله بن مولة قال:
__________جزء: 4 /صفحہ: 456__________
كنت أسير
مع بريدة الأسلمي فقال: فذكر الحديث المرفوع، إلا أنه قال: " ثم الذين
يلونهم. ثلاث مرات ". وفي رواية: " أربع مرات " ولعله سهو من ابن سلمة فقد
كان له بعض ذلك. والحديث إسناده كلهم ثقات رجال مسلم غير عبد الله بن مولة
بفتحات كما في " التقريب " وفي " الخلاصة ": بضم أوله وفتح الواو واللام،
وثقه ابن حبان، وما روى عنه سوى أبي نضرة كما قال الذهبي، فهو مجهول، وفي
التقريب: " مقبول ". فالحديث حسن لغيره، فإن له شواهد مما تقدم. وقالت
عائشة رضي الله عنها: سأل رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم: أي الناس خير؟
قال: " القرن الذي أنا فيه، ثم الثاني ثم الثالث ". أخرجه أحمد (6 / 156)
: حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن السدي عن عبد الله البهي عنها. وهذا إسناد
جيد، وقد أخرجه مسلم (7 / 186) عن حسين بن علي به. ورواه الطبراني عن
سعيد بن تميم نحوه وفيه أنه هو السائل، وزاد بعد القرن الثالث: قلت: ثم
ماذا يا رسول الله؟ قال: " ثم يكون قوم يحلفون ولا يستحلفون، ويشهدون ولا
يستشهدون ويؤتمنون ولا يؤدون ". قال الهيثمي (10 / 19): " ورجاله ثقات ".