سلسله احاديث صحيحه
المناقب والمثالب— فضائل و مناقب اور معائب و نقائص
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ڈٹ کر اپنے منہج پر قائم رہے
- " ما أنا بأقدر على أن أدع لكم ذلك على أن تشعلوا لي منها شعلة. يعني الشمس ".سیدنا عقیل بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قریشی ، ابوطالب کے پاس آئے اور کہا : آپ احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو نہیں دیکھتے ؟ وہ ہمیں ہماری مجالس اور مساجد میں تکلیف دیتا ہے ، آپ اسے ایسی ایذا پہنچانے سے منع کر دیں ۔ انہوں نے مجھے کہا : عقیل ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بلاؤ ۔ میں گیا اور ان کو بلا کر لے آیا ۔ ابوطالب نے کہا : میرے بھتیجے ! تیرے چچا زاد بھائیوں نے یہ شکایت کی ہے کہ تم انہیں مجلسوں اور مسجدوں میں تکلیف دیتے ہو ، اس طرح کرنے سے باز آ جاؤ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کن انکھیوں سے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا : ” اگر تم لوگ میرے لیے آسمان سے شعلہ ( یعنی سورج ) بھی لے آؤ تو میں ایسا کرنے سے نہیں رک سکتا ۔ “ یہ سن کر ابوطالب نے کہا : میرا بھتیجا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جھوٹا نہیں ہے ، تم سب یہاں سے چلے جاؤ ۔
_____________________
رواه أبو جعفر البختري في " حديث أبي الفضل أحمد بن ملاعب " (47 / 1 - 2)
وابن عساكر (11 / 363 / 1، 19 / 44 / 201) من طريق أبي يعلى وغيره
كلاهما عن يونس بن بكير أنبأنا طلحة بن يحيى عن موسى بن طلحة حدثني
عقيل بن أبي طالب قال:
" جاءت قريش إلى أبي طالب فقالوا: أرأيت أحمد؟ يؤذينا في نادينا، وفي
مسجدنا، فانهه عن أذانا، فقال: يا عقيل، ائتني بمحمد، فذهبت فأتيته به،
فقال: يا ابن أخي إن بني عمك زعموا أنك تؤذيهم في ناديهم، وفي مسجدهم،
فانته عن
__________جزء: 1 /صفحہ: 194__________
ذلك، قال: فلحظ رسول الله صلى الله عليه وسلم ببصره (وفي رواية:
فحلق رسول الله صلى الله عليه وسلم ببصره) إلى السماء فقال: فذكره.
قال: فقال أبو طالب: ما كذب ابن أخي. فارجعوا ".
قلت: وهذا إسناد حسن رجاله كلهم رجال مسلم وفي يونس به بكير وطلحة ابن يحيى
كلام لا يضر.
وأما حديث: " يا عم والله لو وضعوا الشمس في يميني، والقمر في يساري على
أن أترك هذا الأمر حتى يظهره أو أهلك فيه ما تركته ".
فليس له إسناد ثابت ولذلك أوردته في " الأحاديث الضعيفة " (913) .