سلسله احاديث صحيحه
الايمان والتوحيد والدين والقدر— ایمان توحید، دین اور تقدیر کا بیان
باب: اعمال صالح کی قلت و کثرت کا معیار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے
- (إنَّ أتقاكم وأعلمَكم باللهِ أنا) .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صحابہ کو کوئی حکم دیتے تو ان اعمال کو سرانجام دینے کا حکم دیتے تھے ، جن کی وہ طاقت رکھتے تھے ۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہم تو آپ کی طرح نہیں ہیں ، ( آپ کی صورت حال تو یہ ہے کہ ) اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے ہیں ، ( جبکہ ہم گنہگار ہیں تو اس لیے ہمیں زیادہ عمل کرنے چاہیں ) ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس مطالبے پر ) ناراض ہو جاتے اور آپ کے چہرے سے ناراضگی کا پتہ چلتا تھا ، پھر فرماتے : ”بے شک میں تم میں سے سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور اس کو جاننے والا ہوں ۔“
_____________________
أخرجه البخاري (20)، وأحمد (6/56 و61) من حديث هشام بن عروة عن
أبيه عن عائشة قالت:
كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إذا أمرهم؛ أمرهم من الأعمال ما يطيقون. قالوا: إنا لسنا
كهيئتك يا رسول الله! إن الله قد غفر لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر؟!
__________جزء: 7 /صفحہ: 1453__________
فيغضب حتى يُعرف الغضب في وجهه، ثم يقول: ... فذكره.
والسياق للبخاري.
ولفظ أحمد في الموضع الثاني:
«والله! إني لأعلمكم بالله عز وجل، وأتقاكم له قلباً» . *