سلسله احاديث صحيحه
الايمان والتوحيد والدين والقدر— ایمان توحید، دین اور تقدیر کا بیان
باب: زیادہ سے زیادہ کتنے روزے رکھے جا سکتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرزندان امت کے حق میں ان سے بڑھ کر خیر خواہ ہیں
- " إنك إذا فعلت ذلك هجمت عيناك ونفهت نفسك. يعني صوم الدهر وقيام الليل ".سیدنا عبداللہ بن عمرو رضى اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : ”اے عبداللہ بن عمرو ! تو سارا زمانہ روزے رکھتا ہے اور پوری رات قیام کرتا ہے ، اگر تو نے ان اعمال کو جاری رکھا تو تیری آنکھیں دھنس جائیں گی اور تو لاغر و کمزور ہو جائے گا ۔ ( یاد رکھ کہ ) اس آدمی نے کوئی روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزے رکھے ۔ اس طرح کرو کہ ہر ماہ میں تین روزے رکھ لیا کرو ، یہ پورے مہینے کے روزے ہیں ۔“ میں نے کہا: مجھے اس سے زیادہ طاقت ہے ۔ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چلو داود علیہ السلام والے روزے رکھ لو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے اور جب ( دشمن سے آمنا سامنا ہو جاتا ) تو فرار اختیار نہیں کرتے تھے ۔“
_____________________
ذكره أبو عبيد في " الغريب " (4 - 5) معلقا عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه
قال لعبد الله بن عمرو بن العاص وذكر قيام الليل وصيام النهار، فقال: فذكره
قلت: وهو قطعة من حديث صحيح، يرويه أبو العباس المكي سمع عبد الله بن عمرو
رضي الله عنهما قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يا عبد الله
بن عمرو! إنك لتصوم الدهر، وتقوم الليل، وإنك إذا فعلت ذلك
__________جزء: 6 /صفحہ: 844__________
هجمت له العين
، ونهكت (وفي رواية: ونفهت له النفس)، لا صام من صام الأبد، صوم ثلاثة
أيام من الشهر صوم الشهر كله ". قلت: فإني أطيق أكثر من ذلك. قال: " فصم
صوم داود، كان يصوم يوما ويفطر يوما، ولا يفر إذا لاقى ". أخرجه البخاري (
1979) ومسلم (3 / 164 - 165) والنسائي (1 / 326) وأحمد (2 / 188 - 189
) . (هجمت) أي: غارت أو ضعفت لكثرة السهر. (نهكت) أي: هزلت وضعفت. (
نفهت) أي: تعبت وكلت " فتح ".