سلسله احاديث صحيحه
الايمان والتوحيد والدين والقدر— ایمان توحید، دین اور تقدیر کا بیان
باب: موت کے وقت خوف و رجا کا مفہوم اور فضیلت
- " لا يجتمعان (يعني الخوف والرجاء) في قلب عبد في مثل هذا الموطن (يعني الاحتضار) إلا أعطاه الله الذي يرجو وأمنه من الذي يخاف ".سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان کے پاس گئے اور وہ موت و حیات کی کشمکش میں تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ’’ اپنے (اخروی اجر و ثواب اور عذاب و عقاب کے ) بارے میں کیا خیال کرتے ہو ؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں پرامید ہوں ، لیکن اپنے گناہوں سے ڈر بھی رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس آدمی کے دل میں اس قسم کے (جان کنی کے ) وقت میں یہ دو چیزیں (یعنی خوف و امید) جمع ہو جاتی ہیں ، تو جس چیز کی اسے امید ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ وہ عطا کر دیتا ہے اور جس چیز کا ڈر ہوتا ہے ، وہ اس سے امن دلا دیتا ہے ۔ “
_____________________
رواه الترمذي (1 / 183 - 184) وحسنه وابن ماجه (4261) وابن أبي الدنيا
في " المحتضرين " (5 / 1 - 2) وفي " حسن الظن " (186 / 1) من طريق عن سيار
ابن حاتم قال: أخبرنا جعفر بن سليمان قال حدثنا ثابت البناني عن أنس بن مالك
قال: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على شاب وهو في الموت، فقال: كيف
تجدك؟ قال: أرجو الله يا رسول الله وأخاف ذنوبي، فقال رسول الله صلى الله
عليه وسلم: فذكره.
قلت: وهذا سند حسن كما قال المنذري (4 / 141) ورجاله ثقات رجال مسلم غير
سيار بن حاتم وهو صدوق له أوهام، كما في " التقريب " وقد تابعه يحيى بن عبد
الحميد الحماني عن ابن بطة في " الإبانه " (6 / 59 / 1) فصح به الحديث،
والحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات. وله شاهد عن عبيد بن عمير مرسلا. لكن
فيه أبو ربيعة زيد بن عوف متروك. رواه ابن أبي الدنيا في " المرض والكفارات "
(ق 169 / 2) .
__________جزء: 3 /صفحہ: 41__________