سلسله احاديث صحيحه
الايمان والتوحيد والدين والقدر— ایمان توحید، دین اور تقدیر کا بیان
باب: اپنی برتری اور دوسروں کی کمتری ثابت کرنے کے لیے خاندانی نام استعمال کرنا ممنوع ہے
- (¬1) (ما بال دَعْْوى الجاهلية؟! دَعُوها؛ فإنَّها مُنْتنةٌ) .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم ایک غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، ایک مہاجر نے ایک انصاری کے سرین پر ہاتھ یا لات ماری ۔ انصاری نے ( خاندانی غیرت و حمیت کا مسئلہ سمجھ کر ) انصار کو یوں پکارا : او انصاریو ! اور مقابلے میں مہاجر نے کہا: او مہاجرو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سن کر ) فرمایا : ”یہ جاہلیت کی پکاریں کیسے ؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کو چھیڑا ہے ، ( اس کی وجہ سے یہ للکاریں شروع ہو گئیں ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ان ( نسبتوں ) کو ترک کر دو ، یہ گندی ہیں ۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو انصار کی تعداد زیادہ تھی ، بعد میں مہاجرین کی تعداد بھی بڑھ گئی ۔ جب عبداللہ بن ابی منافق نے یہ بات سنی تو اس نے کہا: کیا یہ لوگ اس حد تک پہنچ گئے ہیں ؟ جب ہم مدینہ کی طرف واپس جائیں گے تو ہم عزت والے ان ذلیلوں کو مدینہ سے نکال دیں گے . سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ( اے اللہ کے رسول ! ) مجھے اجازت دیجئے ، میں اس منافق کا سر قلم کر دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”رہنے دو ، کہیں لوگ یہ کہنا شروع نہ کر دیں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے صحابہ کو بھی قتل کر دیتا ہے ۔“
_____________________
أخرجه البخاري (4905 و 4907)، ومسلم (8/ 19)، والترمذي (3312)
- وقال: "حسن صحيح "-، والطحاوي في "مشكل الآثار" (4/239)، وابن حبان (7/592/5958 و 8/193/6548)، والبيهقي في "الدلائل " (4/53- 54)، وعبد الرزاق في " المصنف " (9/468/18041)، وأحمد (3/ 392- 393)، وأبو يعلى (3/356- 357 و 458) كلهم من طريق سفيان بن عيينة- وقرن عبد الرزاق به معمر…اً- عن عمرو بن دينار سمع جابر بن عبد الله يقول:
كنا مع النبي - صلى الله عليه وسلم - في غزاة، فكسع رجل من المهاجرين رجلاً من الأنصار، فقال الأنصاري: يا للأنصار! وقال المهاجري: يا للمهاجرين! فقال رسول الله
¬
__________
(¬1) كان هنا حديث: "كان الرَّجُلان من أصحاب النبي - صلى الله عليه وسلم -إذا التقيا ... قرأ أحدهما سورة (والعصر..) ... "، وهو المتقدم في المجلد السادس برقم (2648)، فانظره ثَمَّ.
__________جزء: 7 /صفحہ: 441__________
- صلى الله عليه وسلم -: "ما بال دعوى الجاهلية؟! "، قالوا: يا رسول الله! كسع رجل من المهاجرين رجلاً من الأنصار، فقال: " دعوها؛ فإنها منتنة" [قال جابر: وكانت الأنصار حين قدم النبي - صلى الله عليه وسلم - أكثر، ثم كثر المهاجرون بعد]، فسمعها عبد الله بن أبيّ فقال: قد فعلوها؟! لئن رجعنا إلى المدينة ليُخْرِجنَّ الأعزُّ منها الأذلَّ! قال عمر: دعني أضرب عنق هذا المنافق، فقال:
"دعه؛ لا يتحدث الناس أن محمداً يقتل أصحابه ".
والسياق لمسلم، والزيادة للبخاري وأحمد وغيرهما.
وتابعه ابن جريج قال: أخبرني عمرو بن دينار به نحوه.
أخرجه البخاري (3518) .
وتابعه جمع آخر مطولاً ومختصراً.
أخرجه أبو يعلى (3/459/1959)، وابن جرير في "التفسير" (27/72- 73
و73) ؛ وعنده الزيادة في رواية. وزاد في رواية أخرى:
".. كسع رجلاً من الأنصار برجله، وذلك في أهل اليمن شديد".
ورجاله ثقات؛ غير ابن حميد- وهو محمد بن حميد الرازي-؛ وهو ضعيف
مع حفظه. *