سلسله احاديث صحيحه
الاخلاق والبروالصلة— اخلاق، نیکی کرنا، صلہ رحمی
باب: خاوند کا بیوی کی تمنائیں پوری کرنا، گانے اور موسیقی کی حقیقت اور حکم
- (يا عائشةُ! أتعرفين هذه؟ قالت: لا، يا نبيَّ اللهِ! قال: هذه قينةُ بني فلان، تحبِّين أن تُغنِّيكِ؟ قالت: نعم، قال: فأعطاها طبقاً فغنَّتها، فقال النبيُّ - صلى الله عليه وسلم -: قد نفح الشَّيطانُ في مِنخرَيها) .سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ”عائشہ ! تم اسے جانتی ہو ؟“ انہوں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ بنو فلاں کی مغنیہ ہے ، کیا تم چاہتی ہو کہ وہ تمہارے لیے گائے ؟“ انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو تھال دیا ، سو اس نے اس پر گایا ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بلاشبہ شیطان نے اس کے نتھنوں میں پھونک ماری ہے ۔“
_____________________
أخرجه أحمد (3/449): ثنا مكِّيٌّ: ثنا الجُعيدُ عن يزيد بن خُصَيفة عن
السائب بن يزيد:
أن امرأة جاءت إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، فقال: ... فذكره.
ومن طريق مكي هذا- وهو ابن إبراهيم-: أخرجه النسائي في "السنن الكبرى " (5/310/8960) و (ق 75/2- عشرة النساء- مخطوطة الظاهرية)، والطبراني في "المعجم الكبير" (7/187-187) ؛دون قوله: " فأعطاها طبقاً ".
قلت: وهذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، والسائب بن يزيد صحابي صغير، حُجَّ به في حجة الوداع، وهو ابن سبع سنين، فالظاهر أنه تلقاه عن السيدة عائشة- رضي الله عنها-، وقد روى عنها.
والجعيد: هو ابن عبد الرحمن بن أوس، وقد يقال: (الجعد) مكبراً.
وقال الهيثمي- وقد ساقه بلفظ أحمد- (8/135):
"رواه أحمد والطبراني، ورجاله رجال الصحيح ".
وقال الزَّبيدي في "شرح الإحياء"- بعدما عزاه للنسائي- (6/494):
"واسناده صحيح، وأخرجه الطبراني في (الكبير) ".
(تنبيه): سقط من مطبوعة "السنن الكبرى" قوله: "قد نفخ الشيطان في "منخريها"، وهو ثابت في مخطوطة الظاهرية، وكذا في سياق الزبيدي من رواية النسائي.
وقوله: (طبقاً) . قال في " القاموس ":
" (الطَّبَق) محركة: غطاء كل شيء، والذي يؤكل عليه ".
__________جزء: 7 /صفحہ: 838__________
ولم ترد جملة الطبق هذه في رواية النسائي والطبراني، والله سبحانه وتعالى
أعلم. *