- " ثلاثة لا تسأل عنهم: رجل فارق الجماعة وعصى إمامه ومات عاصيا، وأمة أو عبد أبق فمات، وامرأة غاب عنها زوجها قد كفاها مؤنة الدنيا فتبرجت بعده، فلا تسأل عنهم. وثلاثة لا تسأل عنهم: رجل نازع الله عز وجل رداءه، فإن رداءه الكبرياء وإزاره العزة، ورجل شك في أمر الله والقنوط من رحمة الله ".سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو تین آدمیوں کے ( عذاب کے ) بارے میں سوال نہ کر ( ١ ) ایسا آدمی جو جماعت سے علیحدہ ہو گیا ہو اور امام کی نافرمانی کی ہو اور اسی حالت میں مر گیا ہو ( ٢ ) ایسی لونڈی یا غلام جو ( اپنے مالک سے ) بھاگ گیا ہو اور اسی حالت میں مر گیا ہو اور ( ٣ ) ایسی عورت کہ اس کا شوہر اس کے دنیوی اخراجات پورے کر کے غائب ہوا ہو اور وہ ( اس کی عدم موجودگی میں ) بن سنور کر باہر نکلی ہو ۔ ان کے بارے میں تو مت پوچھ ۔ اسی طرح تین آدمی ہیں ( ان کے عذاب کے بارے میں بھی ) مت دریافت کر ( ١ ) ایسا آدمی جس نے اللہ سے اس کی چادر چھیننے ( کی کوشش کی ہو ) اور اللہ کی چادر کبریائی ہے اور اس کا ازار عزت ( و طاقت ) ہے ( ٢ ) ایسا آدمی جس نے اللہ کے حکم میں شک کیا ہو اور ( ٣ ) ایسا شخص جو اللہ کی رحمت سے ناامید ہو گیا ہو ۔ “
_____________________
أخرجه البخاري في " الأدب المفرد " (590) وابن حبان (50) والحاكم (1 /
119) - دون الشطر الثاني - وأحمد (6 / 19) وابن أبي عاصم في " السنة "
(رقم 89) وابن عساكر في " مدح التواضع وذم الكبر " (5 / 88 / 1) من طريق
حيوة بن شريح: حدثني أبو هاني أن أبا علي عمرو بن مالك الجنبي حدثه عن فضالة
ابن عبيد مرفوعا به. وقال الحاكم: " صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجا
بجميع رواته ولم يخرجاه ولا أعرف له علة "، ووافقه الذهبي!
قلت: وقد وهما في بعض ما قالا، فإن أبا علي الجنبي لم يخرج له الشيخان في
" صحيحيهما " وأبو هاني واسمه حميد بن هاني لم يخرج له البخاري.
وقال ابن عساكر: " حديث حسن غريب تفرد به أبو هاني ورجال إسناده ثقات ".