- (لا، ولكن برَّ أباك، وأحسن صحبته) .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر عبداللہ بن ابی بن سلول کے پاس سے ہوا ، وہ ایک جھاڑی کے سائے میں تھا ، اس نے کہا : ابن ابی کبشہ ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہم پر گرد و غبار اڑایا ہے ۔ اس کے بیٹے عبدالله بن عبدالله نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت دی اور آپ پر کتاب نازل کی ! اگر آپ کی چاہت ہو تو میں اس کا سر ( قلم کر کے ) آپ کے پاس لے آتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ” نہیں ، بلکہ تو اپنے باپ سے نیکی کر اور حسن صحبت سے پیش آ ۔ “
_____________________
أخرجه ابن حبان في "صحيحه " (2029) - من طريق شبيب بن سعيد-، والبزار (3/ 260/2708) - من طريق عمرو بن خليفة- عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال:
مرّ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - على عبد الله بن أبيّ ابن سلول، وهو في ظل أجمة، فقال:
قد غبّر علينا ابن أبي كبشة! فقال ابنه عبد الله بن عبد الله:
والذي أكرمك وأنزل عليك الكتاب! إن شئت لأتيتك برأسه. فقال النبي
- صلى الله عليه وسلم -: ... فذكره. وقا ل البزار:
"لا نعلم رواه عن محمد بن عمرو إلا عمرو بن خليفة، وهو ثقة".
قلت: قد تابعه شبيب بن سعيد- كما رأيت- وكلاهما وثقهما ابن حبان،
وفيهما كلام. والأول أخرج له ابن خزيمة في "صحيحه "- كما في "اللسان "-، والآخر روى له البخاري، فأحدهما يقوي الآخر، فالإسناد حسن، للخلاف
المعروف في محمد بن عمرو. *