- " أما كان فيكم رجل رحيم؟! ".سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا ، انہوں نے مال غنیمت حاصل کیا ، ان میں ایک آدمی ایسا بھی تھا ، جس نے لشکر والوں سے کہا : میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں ، مجھے تو فلاں عورت سے عشق ہے ، سو میں اس سے آ ملا ۔ مجھے جانے دو تاکہ اسے ایک نظر دیکھ سکوں ، پھر میرے ساتھ جو چاہنا کر گزرنا ۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ ایک دراز قد کی گندمی عورت ہے ۔ اس نے اسے کہا : اے حبیش ! زندگی ختم ہونے سے پہلے مان جا ۔ کیا خیال ہے تیرا اگر میں تمہارا پیچھا کروں اور تمہیں حلیہ چشمے پر یا پہاڑوں کی تنگ گھاٹیوں میں جا ملوں ، کیا عاشق کا یہ حق نہیں ہے کہ اس کو رات بھر اور گرمی کی شدت میں چلنے کا انعام دیا جائے ؟ اس عورت نے کہا : میں نے اپنا آپ تجھ پہ فدا کر دیا ہے ۔ انہوں نے اسے آگے کیا اور اس کی گردن کاٹ دی ۔ پھر وہ عورت آئی ، اس پر کھڑی ہوئی اور زور سے چیخ ماری اور پھر وہ مر گئی ۔ جب وہ لشکر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ کو اس کے متعلق خبر دی ۔ آپ نے فرمایا : ”کیا تم میں کوئی بھی رحم دل آدمی نہ تھا ۔“
_____________________
رواه الطبراني في " حديثه عن النسائي " (316 / 1): أنبأنا محمد بن علي بن
حرب المروزي قال: أخبرنا علي بن الحسين بن واقد عن أبيه عن يزيد النحوي عن
عكرمة عن ابن عباس: أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث سرية فغنموا وفيهم
رجل، فقال لهم: إني لست منهم، عشقت امرأة فلحقتها، فدعوني أنظر إليها نظرة
ثم اصنعوا بي ما بدا لكم، فنظروا فإذا امرأة طويلة أدماء فقال لها: أسلمي
حبيش قبل نفاذ العيش. أرأيت لو تبعتكم فلحقتكم بحلية أو أدركتكم بالخوانق أما
كان حق أن ينول عاشق تكلف إدلاج السرى والودائق؟ قالت: نعم فديتك، فقدموه
فضربوا عنقه، فجاءت المرأة فوقفت عليه، فشهقت شهقة ثم ماتت، فلما قدموا على
رسول الله صلى الله عليه وسلم أخبر بذلك، فقال، فذكره. ثم رأيته في " السير
" للنسائي (2 / 47 / 1 - 2) بهذا السند، إلا أنه قال:
أرأيت إن تبعتكم فلحقتكم ... [بحلية أو أدركتكم] (¬1) بالخوانق
ألم يك حقا أن ينول عاشق ... تكلف إدلاج السرى والودائق
¬
__________
(¬1) زيادة من مطبوعة " السنن الكبرى " للنسائي (5 / 201) ومنه صححت بعض
الأخطاء.
__________جزء: 6 /صفحہ: 184__________
ومن طريقه أخرجه في " المعجم الكبير " أيضا (3 / 144
/ 2) وفي " الأوسط " (1 / 92 / 2 / 1688) والبيهقي في " دلائل النبوة " (
5 / 117 - 118) من طريق النسائي أيضا، وكذا ابن منده في " المعرفة " (2 /
89 / 2) وقال الطبراني: " لا يروى عن ابن عباس إلا بهذا الإسناد، تفرد به
محمد بن علي بن حرب ". قلت: وثقه النسائي، وروى عنه جمع، ومن فوقه من
رجال (الصحيح)، إلا أن علي بن الحسين بن واقد روى له مسلم في " المقدمة "،
وهو صدوق يهم كما في " التقريب "، فالإسناد حسن كما قال الهيثمي في " المجمع
" (6 / 210) . وللقصة طريق أخرى عند البيهقي وابن منده، ولكن ليس فيها
حديث الترجمة.