حدیث نمبر: 2434
- " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يبدو إلى هذه التلاع وإنه أراد البداوة مرة، فأرسل إلى ناقة محرمة من إبل الصدقة فقال لي: يا عائشة ارفقي، فإن الرفق لم يكن في شيء قط إلا زانه ولا نزع من شيء قط إلا شانه ".
حافظ محفوظ احمد

سیدنا مقدام بن شریح رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحرائی زندگی کے بارے میں سوال کیا ۔ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ٹیلوں پر جایا کرتے تھے ، ایک دفعہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحرائی زندگی کا ارادہ کیا تو میری طرف صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹنی ، جس پر ابھی تک سواری نہیں کی گئی تھی ، بھیجی اور فرمایا : ”‏‏‏‏عائشہ ! نرمی کرنا ، کیونکہ جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے ، وہ ا‏‏‏‏س کو مزین کر دیتی ہے اور جس چیز سے نرمی چھین لی جائے ، وہ ا‏‏‏‏س کو عیب دار بنا دیتی ہے ۔“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاخلاق والبروالصلة / حدیث: 2434
- " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يبدو إلى هذه التلاع وإنه أراد البداوة مرة، فأرسل إلى ناقة محرمة من إبل الصدقة فقال لي: يا عائشة ارفقي، فإن الرفق لم يكن في شيء قط إلا زانه ولا نزع من شيء قط إلا شانه ".
_____________________

أخرجه أبو داود (2478) والسياق له وأحمد (6 / 58 / 222) من طريق شريك عن
المقدام. وشريك سيء الحفظ لكن تابعه شعبة عند مسلم (8 / 22 - 23)
والبخاري في " الأدب المفرد " (469 / 475) وأحمد (6 / 125 / 171)
وإسرائيل عند أحمد (6 / 112 / 206) .