حدیث نمبر: 2422
- " إذا جاء خادم أحدكم بطعامه قد كفاه حره وعمله، فإن لم يقعده معه ليأكل، فليناوله أكلة من طعامه ".حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب تم میں سے کسی کا خادم اس کا کھانا لائے ، تو چونکہ اس نے ( کھانا پکانے کی ) حرارت اور ( مزید ) محنت و مشقت برداشت کی ہوتی ہے ، ( اس لیے مالک کو چاہئیے کہ اسے اپنے ساتھ بٹھا لے تاکہ وہ بھی کھانا تناول کر سکے ) اگر وہ اسے کھانے کے لیے اپنے ساتھ نہ بٹھانا چاہے تو اسے کچھ کھانا تھما دیا کرے ۔“
- " إذا جاء خادم أحدكم بطعامه قد كفاه حره وعمله، فإن لم يقعده معه ليأكل، فليناوله أكلة من طعامه ".
_____________________
رواه أحمد (2 / 406 و 464) عن حماد بن سلمة أنبأنا عمار بن أبي عمار
سمعت
أبا هريرة مرفوعا. وهذا سند صحيح على شرط مسلم وقد أخرجه هو وغيره بلفظ
: " إذا أتى أحدكم خادمه " وسيأتي إن شاء الله تعالى برقم (1285) .
_____________________
رواه أحمد (2 / 406 و 464) عن حماد بن سلمة أنبأنا عمار بن أبي عمار
سمعت
أبا هريرة مرفوعا. وهذا سند صحيح على شرط مسلم وقد أخرجه هو وغيره بلفظ
: " إذا أتى أحدكم خادمه " وسيأتي إن شاء الله تعالى برقم (1285) .