- " اعرفوا أنسابكم، تصلوا أرحامكم، فإنه لا قرب بالرحم إذا قطعت، وإن كانت قريبة، ولا بعد بها إذا وصلت، وإن كانت بعيدة ".اسحاق بن سعید سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : مجھ کو میرے باپ نے بیان کیا کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تها ، ان کے پاس ایک آدمی آیا ، انہوں نے اس سے پوچھا تو کون ہے ؟ اس نے دور کی رشتے داری کا تعلق بیان کیا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے نرمی سے بات کی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم اپنے نسب کی معرفت حاصل کرو ، تاکہ صلہ رحمی کر سکو ۔ کیونکہ رشتوں کے قریبی ہونے کا ( کوئی مقصد نہیں ) جب سرے سے قطع رحمی کر دی جائے اگرچہ وہ رشتے بہت ہی قریبی ہوں ۔ اور رشتوں کے بعید ہونے ( کا کوئی معنی نہیں ) جب صلہ رحمی کی جائے ، اگرچہ وہ بہت دور کی قرابتیں ہوں ۔“
_____________________
أخرجه أبو داود الطيالسي في " مسنده " (2757): حدثنا إسحاق بن سعيد قال:
حدثني أبي قال:
" كنت عند ابن عباس، فأتاه رجل فسأله: من أنت؟ قال: فمت له برحم بعيدة
فألان له القول، فقال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ... " فذكره.
وأخرجه الحاكم (4 / 161) والسمعاني في " الأنساب " (1 / 7) من طريق
الطيالسي به.
وقال الحاكم: " صحيح على شرط الشيخين ". ووافقه الذهبي.
وأقول: إنما هو على شرط مسلم وحده، فإن الطيالسي لم يحتج به البخاري وإنما
روى له تعليقا.
والحديث أخرجه البخاري في " الأدب المفرد " (رقم 73): حدثنا أحمد ابن يعقوب
قال: أخبرنا إسحاق بن سعيد بن عمرو به موقوفا على ابن عباس دون قصة
__________جزء: 1 /صفحہ: 560__________
الرجل
وزاد:
" وكل رحم آتية يوم القيامة أمام صاحبها، تشهد له بصلة إن كان وصلها، وعليه
بقطيعة إن كان قطعها ".
وهذا سند على شرط البخاري في " صحيحه "، ولكنه موقوف، بيد أن من رفعه ثقة
حجة وهو الإمام الطيالسي، وزيادة الثقة مقبولة.