حدیث نمبر: 2368
- " اعرفوا أنسابكم، تصلوا أرحامكم، فإنه لا قرب بالرحم إذا قطعت، وإن كانت قريبة، ولا بعد بها إذا وصلت، وإن كانت بعيدة ".
حافظ محفوظ احمد

اسحاق بن سعید سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : مجھ کو میرے باپ نے بیان کیا کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تها ، ان کے پاس ایک آدمی آیا ، انہوں نے اس سے پوچھا تو کون ہے ؟ اس نے دور کی رشتے داری کا تعلق بیان کیا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے نرمی سے بات کی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم اپنے نسب کی معرفت حاصل کرو ، تاکہ صلہ رحمی کر سکو ۔ کیونکہ رشتوں کے قریبی ہونے کا ( ‏‏‏‏کوئی مقصد نہیں ) جب سرے سے قطع رحمی کر دی جائے اگرچہ وہ رشتے بہت ہی قریبی ہوں ۔ اور رشتوں کے بعید ہونے ( ‏‏‏‏کا کوئی معنی نہیں ) جب صلہ رحمی کی جائے ، اگرچہ وہ بہت دور کی قرابتیں ہوں ۔“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاخلاق والبروالصلة / حدیث: 2368
- " اعرفوا أنسابكم، تصلوا أرحامكم، فإنه لا قرب بالرحم إذا قطعت، وإن كانت قريبة، ولا بعد بها إذا وصلت، وإن كانت بعيدة ".
_____________________

أخرجه أبو داود الطيالسي في " مسنده " (2757): حدثنا إسحاق بن سعيد قال:
حدثني أبي قال:
" كنت عند ابن عباس، فأتاه رجل فسأله: من أنت؟ قال: فمت له برحم بعيدة
فألان له القول، فقال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ... " فذكره.
وأخرجه الحاكم (4 / 161) والسمعاني في " الأنساب " (1 / 7) من طريق
الطيالسي به.
وقال الحاكم: " صحيح على شرط الشيخين ". ووافقه الذهبي.
وأقول: إنما هو على شرط مسلم وحده، فإن الطيالسي لم يحتج به البخاري وإنما
روى له تعليقا.
والحديث أخرجه البخاري في " الأدب المفرد " (رقم 73): حدثنا أحمد ابن يعقوب
قال: أخبرنا إسحاق بن سعيد بن عمرو به موقوفا على ابن عباس دون قصة
__________جزء: 1 /صفحہ: 560__________

الرجل
وزاد:
" وكل رحم آتية يوم القيامة أمام صاحبها، تشهد له بصلة إن كان وصلها، وعليه
بقطيعة إن كان قطعها ".
وهذا سند على شرط البخاري في " صحيحه "، ولكنه موقوف، بيد أن من رفعه ثقة
حجة وهو الإمام الطيالسي، وزيادة الثقة مقبولة.