حدیث نمبر: 2363
- " والذي نفسي بيده إني لأرى لحمه بين أنيابكما. يعني لحم الذي استغاباه ".
حافظ محفوظ احمد

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عرب کے لوگ سفر میں ایک دوسرے کی خدمت کیا کرتے تھے ۔ سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک آدمی تھا جو ان دونوں کی خدمت کیا کرتا تھا ۔ ( ‏‏‏‏ایک دن ) وہ دونوں سو کر بیدار ہوئے تو خادم نے ان کے کھانا تیار نہیں کیا تھا ۔ ا‏‏‏‏ن میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا : یہ خادم تمہارے نبی کی نیند کی موافقت کرتا ہے ۔ اور ایک روایت میں ہے : تمہارے گھر کی نیند کی موافقت کرتا ہے ۔ دونوں نے ا‏‏‏‏سے جگایا اور کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا اور آپ کو کہہ کہ ابوبکر اور عمر آپ کو سلام کہتے ہیں اور وہ آپ سے سالن طلب کر رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میری طرف سے ا‏‏‏‏ن دونوں کو سلام کہنا اور ان کو بتلانا کہ تم دونوں نے سالن کھا لیا ہے ۔ پس ابوبکر و عمر یہ سن کر گھبرا گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے ( ‏‏‏‏فلاں آدمی کو ) آپ کی طرف سالن لینے کے لیے بھیجا تھا اور آپ نے فرمایا کہ تم دونوں سالن کھا چکے ہو ، ( ‏‏‏‏بھلا ) ہم نے کس چیز کا سالن کھا لیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ”اپنے بھائی کے گوشت کا ، قسم ہے مجھے اس ذات کی کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ میں اس کا گوشت تمہاری کچلیوں کے درمیان دیکھ رہا ہوں ۔ ”سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : ہمارے لیے ، بخشش طلب فرمائیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”‏‏‏‏اس خادم کو ہی تمہارے لیے بخشش طلب کرنا چاہیئے ۔“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاخلاق والبروالصلة / حدیث: 2363
- " والذي نفسي بيده إني لأرى لحمه بين أنيابكما. يعني لحم الذي استغاباه ".
_____________________

أخرجه الخرائطي في " مساوئ الأخلاق " (186) والضياء المقدسي في " المختارة
" (2 / 33 / 2) من طرق عن أبي بدر عباد بن الوليد الغبري: حدثنا حبان ابن
هلال حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت البناني عن أنس بن مالك قال: " كانت
العرب تخدم بعضها بعضا في الأسفار، وكان مع أبي بكر وعمر رجل يخدمهما،
فناما، فاستيقظا، ولم يهيئ لهما طعاما، فقال أحدهما لصاحبه: إن هذا ليوائم
نوم نبيكم صلى الله عليه وسلم (وفي رواية: ليوائم نوم بيتكم) فأيقظاه فقالا
: ائت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقل له: إن أبا بكر وعمر يقرئانك السلام
، وهما يستأدمانك. فقال: أقرهما السلام، وأخبرهما أنهما قد ائتدما! ففزعا
، فجاءا إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالا: يا رسول الله! بعثنا إليك
نستأدمك، فقلت: قد ائتدما. فبأي شيء ائتدمنا؟ قال: بلحم أخيكما، والذي
نفسي (فذكره) قالا: فاستغفر لنا، قال: هو فليستغفر لكما ". قلت: وهذا
إسناد صحيح، رجاله كلهم ثقات رجال مسلم غير أبي بدر الغبري، قال أبو حاتم
وتبعه الحافظ: " صدوق ". وذكره ابن حبان في " الثقات ". وروى عنه جمع من
الحفاظ الثقات، وقد توبع، فقال الضياء عقبه: " وقد رواه عفان بن مسلم عن
حماد بن سلمة عن ثابت عن عبد الرحمن بن
__________جزء: 6 /صفحہ: 211__________

أبي يعلى: أن العرب كانت تخدم بعضهم
بعضا في الأسفار. فذكره. قيل: (الموائمة): الموافقة، ومعناه أن هذا
النوم يشبه نوم البيت لا نوم السفر، عابوه بكثرة النوم ". وله شاهد مرسل في
" التوبيخ " (243) عن السدي، وهو إسماعيل بن عبد الرحمن. والسند إليه
ضعيف.