سلسله احاديث صحيحه
التوبة والمواعظ والرقائق— توبہ، نصیحت اور نرمی کے ابواب
باب: اخروی فکر اور دنیوی فکر رکھنے والے سے اللہ تعالیٰ کا معاملہ
- " من كانت الدنيا همه فرق الله عليه أمره وجعل فقره بين عينيه ولم يأته من الدنيا إلا ما كتب له، ومن كانت الآخرة نيته جمع الله له أمره وجعل غناه في قلبه وأتته الدنيا وهي راغمة ".سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس آدمی کا رنج و غم دنیا ہی دنیا ہو ، اللہ تعالیٰ اس پر اس کے معاملات کو منتشر کر دیتا ہے ، اس کی فقیری و محتاجی کو اس کی آنکھوں کے درمیان رکھ دیتا ہے اور اسے دنیا سے بھی وہی کچھ ملتا ہے جو اس کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے ۔ ( لیکن اس کے برعکس) جس آدمی کی فکر آخرت ہو ، اللہ تعالیٰ اس کے امور کی شیرازہ بندی کر دیتا ہے ، اس کے دل کو غنی کر دیتا ہے اور دنیا ذلیل ہو کر (اس کے مقدر کے مطابق ) اس کے پاس پہنچ جاتی ہے ۔ “
_____________________
أخرجه ابن ماجه (2 / 524 - 525) وابن حبان (72) من طريق شعبة عن عمرو بن
سليمان قال: سمعت عبد الرحمن بن أبان بن عثمان ابن عفان عن أبيه عن زيد بن
ثابت مرفوعا.
قلت: وهذا إسناد صحيح رجاله ثقات كما قال في " الزوائد ".