سلسله احاديث صحيحه
التوبة والمواعظ والرقائق— توبہ، نصیحت اور نرمی کے ابواب
باب: انسان کسی نہ کسی انداز میں ناشکری کرتا رہتا ہے
حدیث نمبر: 2235
- " ابن آدم إن أصابه البرد قال: حس، وإن أصابه الحر قال: حس ".حافظ محفوظ احمد
سیدہ خولہ بنت قیس بن فہد انصاریہ ، جو بنو انصار سے تھیں ، کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن تشریف لائے ، میں نے ہانڈی پیش کی جس میں روٹی یا (ایک مخصوص) حلوا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کے لیے ہانڈی میں اپنا ہاتھ ڈالا ، (کھانا گرم ہونے کی وجہ سے ) آپ کی انگلیاں جلنے لگیں ، جس کی وجہ سے آپ نے ”ہائے“ کہا اور پھر فرمایا : ”جب ابن آدم کو کوئی چیز ٹھنڈی محسوس ہوتی ہے تو وہ ہائے کرتا ہے اور جب کوئی چیز گرم محسوس کرتا ہے تو بھی وہ ہائے کرتا ہے ۔“
- " ابن آدم إن أصابه البرد قال: حس، وإن أصابه الحر قال: حس ".
_____________________
أخرجه أحمد (6 / 410) من طريق يحنس عن خولة بنت قيس بن ﴿ قهد﴾ الأنصارية
من بني النجار قالت: " جاءنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما.... فقدمت
إليه برمة فيها خبزة أو حريرة، فوضع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده في
البرمة ليأكل، فاحترقت أصابعه، فقال: حس، ثم قال: " فذكره.
قلت: وهذا إسناد صحيح، رجاله كلهم ثقات رجال مسلم.
(حس) كلمة تقال عند الألم المفاجئ، يقال: ضرب فما قال: حس، وقد تنون.
_____________________
أخرجه أحمد (6 / 410) من طريق يحنس عن خولة بنت قيس بن ﴿ قهد﴾ الأنصارية
من بني النجار قالت: " جاءنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما.... فقدمت
إليه برمة فيها خبزة أو حريرة، فوضع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده في
البرمة ليأكل، فاحترقت أصابعه، فقال: حس، ثم قال: " فذكره.
قلت: وهذا إسناد صحيح، رجاله كلهم ثقات رجال مسلم.
(حس) كلمة تقال عند الألم المفاجئ، يقال: ضرب فما قال: حس، وقد تنون.