سلسله احاديث صحيحه
التوبة والمواعظ والرقائق— توبہ، نصیحت اور نرمی کے ابواب
باب: مالداری میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن کب؟۔ صحت، غنی سے بہتر ہے
- " لا بأس بالغنى لمن اتقى، والصحة لمن اتقى خير من الغنى، وطيب النفس من النعيم ".معاذ بن عبداللہ بن خبیب اپنے باپ سے ، وہ اپنے چچا سیدنا یسار بن عبداللہ جہنی سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے اور آپ کے سر پر پانی کے نشانات تھے ۔ ہم میں سے کسی نے کہا: آج ہم آپ کو (پہلے کی بہ نسبت) خوشگوار موڈ میں دیکھ رہیں ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، (بات ایسے ہی ہے ) اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے ۔“ پھر لوگ مالداری کی باتوں میں مشغول ہو گئے ، آپ نے ان کی گفتگو سن کر فرمایا : ”اگر آدمی متقی ہو تو مالدار ہونے میں کوئی حرج نہیں ، بہرحال پرہیزگار آدمی کے لیے صحت و عافیت ، مال و دولت سے بہتر ہے اور طیب النفس ہونا بھی ایک نعمت ہے ۔“
_____________________
أخرجه ابن ماجه (2141) والحاكم (2 / 3) وأحمد (5 / 272 و 381) من طريق
عبد الله بن سليمان بن أبي سلمة أنه سمع معاذ بن عبد الله بن خبيب عن أبيه عن
عمه قال:
" كنا في مجلس، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم وعلى رأسه أثر ماء، فقال له
بعضنا: نراك اليوم طيب النفس، فقال: أجل، والحمد لله، ثم أفاض القوم في
ذكر الغنى، فقال: " فذكره.
وقال الحاكم:
" صحيح الإسناد، والصحابى الذي لم يسم هو يسار بن عبد الله الجهني ".
ووافقه الذهبي.
قلت: وهو كما قالا، فإن رجاله ثقات كلهم، وقال البوصيري في الزوائد ":
" إسناده صحيح، ورجاله ثقات ".
__________جزء: 1 /صفحہ: 336__________