حدیث نمبر: 2189
- " إن أوليائي يوم القيامة المتقون، وإن كان نسب أقرب من نسب، فلا يأتيني الناس بالأعمال وتأتوني بالدنيا تحملونها على رقابكم، فتقولون: يا محمد! فأقول هكذا وهكذا: لا وأعرض في كلا عطفيه ".
حافظ محفوظ احمد

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیلہ وسلم نے فرمایا : ”قیامت کے دن پرہیزگار لوگ میرے دوست ہوں گے ، اگرچہ وہ نسب میں قریب تر ہوں (یا نہ ہوں) ۔ (خیال رکھنا) کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ تو میرے پاس (نیک) اعمال لے کر آئیں اور تم دنیا (کی خیانتوں اور دوسروں کے غصب شدہ حقوق) کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر لاؤ اور پکارو : اے محمد ! اور میں ادھر ادھر اعراض کرتے ہوئے کہوں : ”نہیں ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں جانب اعراض کیا ۔

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / التوبة والمواعظ والرقائق / حدیث: 2189
- " إن أوليائي يوم القيامة المتقون، وإن كان نسب أقرب من نسب، فلا يأتيني الناس بالأعمال وتأتوني بالدنيا تحملونها على رقابكم، فتقولون: يا محمد! فأقول هكذا وهكذا: لا وأعرض في كلا عطفيه ".
_____________________

أخرجه البخاري في " الأدب المفرد " (ص 129) من طريق محمد بن عمرو عن أبي سلمة
عن أبي هريرة مرفوعا.
قلت: وهذا إسناد حسن.
__________جزء: 2 /صفحہ: 391__________