سلسله احاديث صحيحه
السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان— سفر، جہاد، غزوہ اور جانور کے ساتھ نرمی برتنا
باب: مال و دولت کی کثرت کا وبال
- " إذا فتحت عليكم [خزائن] فارس والروم أي قوم أنتم؟ قال عبد الرحمن بن عوف : نقول كما أمرنا الله. قال صلى الله عليه وسلم : أو غير ذلك، تتنافسون ثم تتحاسدون، ثم تتدابرون، ثم تتباغضون، أو نحو ذلك، ثم تنطلقون في مساكن المهاجرين، فتجعلون بعضهم على رقاب بعض ".سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب فارس (ایران) اور روم کے خزانے تمہارے لیے فتح کر لیے جائیں گے تو تم اس وقت کس قسم کے لوگ ہو گے ؟“ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم وہی بات کہیں گے ، جس کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کوئی اور بات بھی ہے ؟ پہلے تو تم بڑھ چڑھ کر حصہ لو گے ، پھر ایک دوسرے سے حسد کرو گے ، پھر باہم قطع تعلق ہو کر ایک دوسرے سے دشمنی کرو گے ، پھر ایک دوسرے سے منافرت رکھو گے اور اس قسم کی (قبیح عادتیں) اپناؤ گے اور پھر مہاجروں کے گھروں پر ہلہ بول دو گے اور ان کو ایک دوسرے سے لڑا دو گے ۔“
_____________________
أخرجه مسلم (8 / 212 - 213) وابن ماجه (2 / 481 - 482) والزيادة له قالا
- والسياق لمسلم -: حدثنا عمر بن سواد العامري: أخبرنا عبد الله بن وهب:
أخبرني عمرو بن الحارث: أن بكر بن سوادة حدثه أن يزيد بن رباح (هو أبو فراس
مولى عبد الله بن عمرو بن العاص) حدثه عن عبد الله بن عمرو بن العاص عن
رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: فذكره. وأخرجه الفسوي في " التاريخ "
(2 / 514) من طريق شيخين آخرين قالا: حدثنا ابن وهب به. وفيه الزيادة.