سلسله احاديث صحيحه
السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان— سفر، جہاد، غزوہ اور جانور کے ساتھ نرمی برتنا
باب: مسجد میں اشعار پڑھنا درست ہیں، لیکن . . .
- " أجب عني، اللهم أيده بروح القدس ".سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ مسجد میں باآواز بلند اشعار پڑھ رہے تھے ، انہوں نے اسے گھورا ، لیکن انہوں نے کہا : میں مسجد میں اس وقت بھی اشعار پڑھتا تھا ، جب تجھ سے بہتر ہستی (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) مسجد میں موجود ہوتی تھی ۔ پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا : میں تجھے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا : ”(حسان ! ) تم میری طرف سے (اشعار کی صورت میں) جواب دو ۔ اے اللہ ! روح القدس کے ذریعے اس کی مدد فرما ۔“
_____________________
أخرجه مسلم (7 / 162 - 163) وأبو داود (2 / 316) والطيالسي (ص 304 رقم
2309) وأحمد (2 / 269 و 5 / 222) عن الزهري عن سعيد عن أبي هريرة،
" أن عمر مر بحسان وهو ينشد الشعر في المسجد، فلحظ إليه، فقال: قد كنت
أنشد وفيه من هو خير منك، ثم التفت إلى أبي هريرة فقال: أنشدك الله، أسمعت
رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: (فذكره؟) قال: اللهم نعم ". وزاد
أحمد في رواية: " فانصرف عمر وهو يعرف أنه يريد رسول الله صلى الله عليه وسلم
".
وإسنادها صحيح. وللزهري فيه إسناد آخر بلفظ: " يا حسان أجب ... " وسيأتي
برقم (1954) . وله شاهد أحدهما عن عائشة، وسيأتي (1180) . والآخر عن
البراء وقد مضى (801) .
__________جزء: 2 /صفحہ: 605__________