سلسله احاديث صحيحه
السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان— سفر، جہاد، غزوہ اور جانور کے ساتھ نرمی برتنا
باب: حیوانات کے حقوق
- " من فجع هذه بولدها؟! ردوا ولدها إليها ".عبدالرحمٰن بن عبداللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بشری حاجت کے لیے تشریف لے گئے، ہم نے (چڑیا کی طرح کا) ایک سرخ پرندہ دیکھا، اس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے، ہم نے ان بچوں کو پکڑ لیا۔ تو وہ پرندہ (ان کے گرد منڈلانے اور) اپنے بازو پھڑپھڑانے لگا، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور پوچھا: ”اس پرندے کو اس کے بچوں کی وجہ سے کس نے رنج پہنچایا ہے؟ اسے اس کے بچے لوٹا دو۔“ پھر آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جس کو ہم نے جلا دیا تھا، آپ نے پوچھا: ”یہ بستی کس نے جلائی ہے؟“ ہم نے جواب دیا: ہم نے (جلائی ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ کا عذاب دینا تو آگ کے رب کو ہی سزاوار ہے۔“
_____________________
رواه البخاري في " الأدب المفرد " (رقم 382) وأبو داود (رقم 2675)
والحاكم (4 / 239) عن عبد الرحمن بن عبد الله عن أبيه قال:
" كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر، فانطلق لحاجة، فرأينا حمرة
معها فرخان، فأخذنا فرخيها، فجاءت الحمرة فجعلت تفرش، فجاء النبي صلى الله
عليه وسلم فقال: " فذكره.
والسياق لأبي داود وزاد: " ورأى قرية نمل قد حرقناها، فقال:
من حرق هذه؟ قلنا: نحن، قال: إنه لا ينبغي أن يعذب بالنار إلا رب النار ".
__________جزء: 1 /صفحہ: 64__________
وسنده صحيح، وقال الحاكم " صحيح الإسناد ". ووافقه الذهبي.
وسيأتي بزيادة في التخريج، وشاهد لبعضه (481 - 482) .
(الحمرة): بضم الحاء وفتح الميم المشددة: طائر صغير كالعصفور أحمر اللون.
(تفرش): بحذف إحدى التاءين كـ (تذكر) أي ترفرف بجناحيها وتقترب من الأرض.