حدیث نمبر: 2055
- " إن امرأة كانت فيه (يعني بيتا في المدينة) ، فخرجت في سرية من المسلمين، وتركت ثنتي عشرة عنزا لها وصيصتها، كانت تنسج بها، قال: ففقدت عنزا من غنمها وصيصتها، فقالت: يا رب! إنك قد ضمنت لمن خرج في سبيلك أن تحفظ عليه، وإني قد فقدت عنزا من غنمي وصيصتي، وإني أنشدك عنزي وصيصتي، قال: فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر شدة مناشدتها لربها تبارك وتعالى. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : فأصبحت عنزها ومثلها، وصيصتها ومثلها، وهاتيك فائتها فاسألها إن شئت ".
حافظ محفوظ احمد

سیدنا حمید بن ہلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : طفاوہ قبیلے کا ایک آدمی ، جو ہمارے پاس سے گزرتا تھا ، اپنے قبیلے کے پاس آیا اور کہا: ہم اپنے سامان تجارت والے قافلے میں مدینہ آئے اور اپنا سامان فروخت کیا ۔ پھر میں نے کہا: میں تو اس آدمی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس ضرور جاؤں گا اور پچھلوں کو بھی آپ کے حالات سے آگاہ کروں گا ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا ، آپ نے مجھے ایک گھر دکھایا اور فرمایا : ”ایک عورت اس گھر میں رہائش پذیر تھی ، وہ بارہ بکریاں اور کاتنے کا تکلا ، جس کے ساتھ وہ بننے کا کام کرتی تھی ، چھوڑ کر مسلمانوں کے ایک فوجی دستے میں ان کے ساتھ چلی گئی ۔ ( ‏‏‏‏جب وہ واپس آئی تو دیکھا کہ ) ایک بکری اور تکلا گم ہو گیا ہے ۔ اس نے کہا: اے میرے رب ! تو نے اپنے راستے میں نکلنے والے کی حفاظت کی ضمانت دی ہے اور میری تو ایک بکری اور تکلا گم ہو گیا ہے ۔ اب میں تجھے قسم کے ساتھ واسطہ دے کر تجھ سے اپنی بکری اور تکلا طلب کرتی ہوں ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رب سے اس کے مطالبے کی شدت کا تذکرہ کرنے لگے اور فرمایا : ”اس کی بکری اور اس کی مثل ایک اور بکری اور اس کا تکلا اور اس کی مثل ایک اور تکلا اسے مل گیا ۔ اگر تو چاہتا ہے تو اس کے پاس چلا جا اور اس سے پوچھ لے ۔“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان / حدیث: 2055
- " إن امرأة كانت فيه (يعني بيتا في المدينة)، فخرجت في سرية من المسلمين، وتركت ثنتي عشرة عنزا لها وصيصتها، كانت تنسج بها، قال: ففقدت عنزا من غنمها وصيصتها، فقالت: يا رب! إنك قد ضمنت لمن خرج في سبيلك أن تحفظ عليه، وإني قد فقدت عنزا من غنمي وصيصتي، وإني أنشدك عنزي وصيصتي، قال: فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر شدة مناشدتها لربها تبارك وتعالى. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فأصبحت عنزها ومثلها، وصيصتها ومثلها، وهاتيك فائتها فاسألها إن شئت ".
_____________________

أخرجه أحمد في " مسنده " (5 / 67) قال: حدثنا عبد الصمد بن
عبد الوارث أخبرنا سليمان (يعني ابن المغيرة) عن حميد (يعني ابن هلال) قال: كان رجل
من الطفاوة طريقه علينا، فأتى على الحي فحدثهم قال: قدمت المدينة في عير لنا
، فبعنا بضاعتنا (الأصل: بياعتنا) (¬1) ثم قلت: لأنطلقن إلى هذا الرجل،
فلآتين من بعدي بخبره، قال: فانتهيت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فإذا
هو يريني بيتا. قال: فذكره. قلت: وهذا إسناد صحيح، رجاله كلهم ثقات رجال
الشيخين غير الرجل الطفاوي، فإنه لم يسم، ولا يضر لأنه صحابي، والصحابة
كلهم عدول. وقال الهيثمي (5 / 277): " رواه أحمد، ورجاله رجال الصحيح "
. قوله: (صيصتها) هي الصنارة التي يغزل بها وينسج كما في " النهاية ".