سلسله احاديث صحيحه
السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان— سفر، جہاد، غزوہ اور جانور کے ساتھ نرمی برتنا
باب: فضیلت جہاد
- " ما في الناس مثل رجل آخذ بعنان فرسه فيجاهد في سبيل الله ويجتنب شرور الناس . ومثل رجل باد في غنمه، يقري ضيفه ويؤدي حقه ".حبیب بن شہاب عنبری کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ سے سنا ، وہ کہتے ہیں : میں اور میرا دوست سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے ، ہمیں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دروازے پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ملے ۔ انہوں نے پوچھا: تم کون ہو ؟ ہم نے اپنا تعارف کروایا ۔ انہوں نے کہا: تم ان لوگوں کے پاس چلے جاؤ جو کھجوروں اور پانی پر ہیں ، ( یہاں تو ) ہر آدمی کا بمشکل اپنا گزارا ہو رہا ہے ۔ ہم نے کہا: تیرے خزانے زیادہ ہوں ، تم اتنا کرو کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہمارے لیے اجازت لے دو ۔ انہوں نے اجازت طلب کی ، ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک والے دن خطاب کیا اور فرمایا : ”جو آدمی اپنے گھوڑے کی لگام تھام کر اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور لوگوں کی شرور سے پرہیز کرتا ہے ، وہ لوگوں میں بے مثال ہے ۔ اور وہ آدمی بھی بے مثال ہے ، جو ایک ویرانے میں فروکش ہو کر اپنی بھیڑ بکریاں پالتا ہے ، مہمان کی ضیافت کرتا ہے اور اس کا حق ادا کرتا ہے ۔“ میں نے کہا: واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ باتیں ارشاد فرمائیں ؟ انہوں نے کہا: (جی ہاں) ارشاد فرمائیں ۔ میں نے پھر کہا: واقعی آپ نے یہ باتیں ارشاد فرمائیں ؟ انہوں نے کہا: (جی ہاں) فرمائیں ۔ میں نے پھر کہا: واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ باتیں ارشاد فرمائیں ؟ انہوں نے کہا: (جی ہاں) فرمائیں ۔ میں نے اللہ أکبر اور الحمد للہ کہا اور اس کا شکریہ ادا کیا ۔
_____________________
أخرجه الإمام أحمد (1 / 311): حدثنا روح حدثنا حبيب بن شهاب العنبري قال:
سمعت أبي يقول: أتيت ابن عباس أنا وصاحب لي، فلقينا أبا هريرة عند باب ابن
عباس، فقال: من أنتما؟ فأخبرناه، فقال: انطلقا إلى ناس على تمر وماء،
إنما يسيل كل واد بقدره. قال: قلنا: كثير خيرك، استأذن لنا على ابن عباس،
قال: فاستأذن لنا، فسمعنا ابن عباس يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
، فقال: خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم تبوك، فقال: فذكره. قال:
قلت: أقالها؟ قال: قالها.
__________جزء: 5 /صفحہ: 328__________
قال: قلت: أقالها؟ قال: قالها. قلت: أقالها
؟ قال: قالها. فكبرت الله، وحمدت الله وشكرته.
قلت: وهذا إسناد صحيح: روح هو ابن عبادة، وهو ثقة من رجال الشيخين.
وحبيب بن شهاب العنبري ثقة بلا خلاف، وهو مترجم في " تعجيل المنفعة " وأبوه
شهاب، وثقه ابن حبان (4 / 363) وأبو زرعة كما في " الجرح والتعديل ".
وقد تابعه القلوص بنت عليبة: سمعت شهاب بن مدلج حدثنا أبو هريرة أن النبي صلى
الله عليه وسلم قال: " خير الناس رجل تنحى عن شرور الناس ".