حدیث نمبر: 2019
- " أما بلغكم أني قد لعنت من وسم البهيمة في وجهها، أو ضربها في وجهها؟! فنهى عن ذلك ".
حافظ محفوظ احمد

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایسا گدھا گزارا گیا ، جس کے چہرے کو داغا گیا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا تم لوگوں کو یہ حدیث نہیں پہنچی کہ میں نے اس آدمی پر لعنت کی ہے جو جانور کو اس کے چہرے پر داغتا ہے یا اس کے چہرے پر مارتا ہے ؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع کر دیا ۔

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / اللباس والزينة واللهو والصور / حدیث: 2019
- " أما بلغكم أني قد لعنت من وسم البهيمة في وجهها، أو ضربها في وجهها؟! فنهى عن ذلك ".
_____________________

أخرجه أبو داود (1 / 401 - 402): حدثنا محمد بن كثير أخبرنا سفيان عن أبي
الزبير عن جابر: " أن النبي صلى الله عليه وسلم مر عليه بحمار قد وسم في
وجهه، فقال: " فذكره.
__________جزء: 4 /صفحہ: 65__________

قلت: وهذا إسناد رجاله ثقات رجال مسلم، على ضعف في محمد بن كثير وهو العبدي
وعنعنة أبي الزبير فإنه مدلس. وقد أخرجه مسلم (6 / 165) من طريق معقل عن
أبي الزبير به مختصرا بلفظ: " لعن الله الذي وسمه ". ثم أخرجه من طريق ابن
جريج قال: أخبرني أبو الزبير أنه سمع جابر بن عبد الله يقول: " نهى رسول الله
صلى الله عليه وسلم عن الضرب في الوجه، وعن الوسم في الوجه ". وهذا إسناد
صحيح مصرح فيه بالسماع، وقد خرج في " الإرواء " (2186) .