سلسله احاديث صحيحه
اللباس والزينة واللهو والصور— لباس، زینت، لہو و لعب، تصاویر
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بال . . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت
(كانَ رسولُ الله صلى الله عليه وسلم قد شَمِطَ مُقدَّمُ رأسِهِ ولحيتِهِ، فإذا ادَّهَنَ ومشَطَ لم يتبيَّنْ، وإذا شَعِثَ رأسُهُ تَبَيَّنَ، وكانَ كَثِيرَ الشَّعرِ واللّحيةِ، فقالَ رجُلٌ: وَجهُهُ مِثْلُ السَّيْفِ؟ قال: لا، بلْ كانَ مِثْلَ الشَّمسِ والقَمَرِ مُسْتدِيراً؛ قال: ورأيتُ خَاتمهُ عِندَ كَتِفِهِ مِثْلَ بَيْضَةِ الحمامَةِ يُشْبِهُ جَسَدَهُ) .سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے سامنے والے حصے اور داڑھی مبارک کے (کچھ) بال سفید ہو گئے تھے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیل لگاتے اور کنگھی کرتے تو وہ واضح نہیں ہوتے تھے ، لیکن جب آپ کے بال بکھرے ہوئے اور غبار آلود ہوتے تو وہ نظر آتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی کے بال زیادہ (یعنی گھنے ) تھے ۔ ایک آدمی نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ تلوار کی طرح (چمکدار) تھا ؟ پھر کہا: نہیں بلکہ آفتاب و مہتاب کی طرح (چمکتا ہوا) اور گول تھا ۔ انہوں نے کہا: اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر (نبوت) دیکھی، وہ کندھوں کے درمیان کبوتری کے انڈے کی طرح تھی اور آپ کے جسم سے ملتی جلتی تھی ۔
_____________________
أخرجه مسلم (2344)، وأحمد (5/104) من طرق عن إسرائيل عن سماك: أنه سمع جابر بن سمرة يقول ... فذكره. وعزاه النابلسي في "الذخائر" للنسائي في "الزينة "، ولعله من أوهامه؛ فإنه ليس فيه، وكان من الممكن أن يكون فيه من "الكبرى" له، ولكن الحافظ المزي في "تحفة الأشراف " لم يعزه إلا لمسلم!
ثم رأيته فيه (8/50) بالقطعة الأولى منه. *