سلسله احاديث صحيحه
الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان— قربانی، ذبیحوں، کھانے پینے، عقیقے اور جانوروں سے نرمی کرنے کا بیان
باب: بیویوں کے ساتھ دلگی
- (قُوما فاغسِلا وجوهَكُما، يعني: عائشة وسودة) .ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں خزیرہ (ایک کھانا جو قیمے اور آٹے سے تیار کیا جاتا ہے ) پکا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور سودہ کے درمیان تشریف فرما تھے ، میں نے سودہ سے کہا: کہ تم بھی کھاؤ ۔ انہوں نے کھانے سے انکار کر دیا ۔ میں نے کہا: تم یہ ضرور کھاؤ گی یا میں تمہارے چہرے کو اس سے آلودہ کر دوں گی ۔ اس نے پھر بھی انکار کیا ۔ پس میں نے اپنا ہاتھ خزیرہ میں رکھا اور اس کے چہرے پر لگا دیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور اس کے لیے اپنی ران رکھ کر سودہ سے فرمایا : تم بھی اس کے چہرے پر لگا دو ۔“ سو اس نے میرا چہرہ بھی آلودہ کر دیا ، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ۔ اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے اور آواز دی : او عبداللہ ! او عبداللہ ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گمان ہوا کہ وہ ابھی داخل ہونے والے ہیں ، اس لیے ان سے فرمایا کہ ”کھڑی ہو جاؤ اور اپنے چہرے دھو لو ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عائشہ اور سودہ تھیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں ہمیشہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ڈرتی رہی ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی ہیبت کا خیال رکھتے تھے ۔
_____________________
أخرجه أبو بكر الشافعي في "الفوائد" (ق 18/1): حدثني إسحاق بن الحسن بن ميمون الحربي: ثنا أبو سلمة: ثنا حماد: ثنا محمد بن عمرو عن يحيى بن عبد الرحمن أن عائشة قالت:
أتيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - بخزيرة طبختها له، فقلت لسودة والنبي - صلى الله عليه وسلم - بيني وبينها، فقلت لها: كلي. فأبت، فقلت: لتأكلِنَّ أو لألطخن وجهك. فأبت، فوضعت يدي في الخزيرة فطليت بها وجهها! فضحك النبي - صلى الله عليه وسلم - فوضع فخذه (!) لها وقال لسودة:
" الطخي وجهها "
فلطخت وجهي، فضحك النبي - صلى الله عليه وسلم - أيضاً، فمرَّ عمر فنادى: يا عبد الله! يا عبد الله! فظن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه سيدخل فقال لهما ... (فذكر الحديث) . قالت عائشة: فما زلت أهاب عمر؛ لهيبة رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إياه.
قلت: وهذا إسناد حسن، رجاله ثقات من رجال "التهذيب "؛ غير إسحاق الحربي هذا، وهو ثقة؛ كما قال إبراهيم الحربي وعبد الله بن أحمد والدارقطني وهو مترجم في "تاريخ بغداد" (6/382) .
وأبو سلمة اسمه موسى بن إسماعيل التبوذكي.
وحماد هو ابن سلمة.
__________جزء: 7 /صفحہ: 363__________
ويحيى بن عبد الرحمن هو ابن حاطب المدني، روى عن جمع من الصحابة منهم عائشة، رضي الله عنهم.
ثم رأيت الحديث في "مسند أبي يعلى" (7/449/4476)، حدثنا إبراهيم: حدثنا حماد به. وفيه: "فوضع بيده لها" مكان ".. فخذه.. " فوضح المراد. والحمد لله.
وإبراهيم هذا هو ابن الحجاج السامي، قال الحافظ:
"ثقة، يهم قليلاً".
وقال الهيثمي في "المجمع " (4/316):
"رواه أبو يعلى، ورجاله رجال "الصحيح "؛ خلا محمد بن عمرو بن علقمة، وحديثه حسن ". *