سلسله احاديث صحيحه
الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان— قربانی، ذبیحوں، کھانے پینے، عقیقے اور جانوروں سے نرمی کرنے کا بیان
باب: مردار کا چمڑا پاک کیا جا سکتا ہے
- " لو أخذتم إهابها، يطهرها الماء والقرظ ".عالیہ بنت سبیع کہتی ہیں : احد مقام پر میری کچھ بکریاں تھیں ، وہ مرنے لگ گئیں ۔ میں زوجہ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور صورتحال کا تذکرہ کیا ۔ انہوں نے کہا: اگر تو ان کے چمڑے لے کر ان سے استفادہ کرتی رہے ( تو درست ہے ) ۔ میں نے کہا: کیا ایسا کرنا میرے لیے حلال ہو گا ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ، کچھ لوگ اپنی ( مردار ) بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا : ”کاش تم لوگ اس کا چمڑا لے لیتے ۔“ انہوں نے کہا: یہ تو مردار ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”پانی اور قرظ کے پتے اس کو پاک کر دیں گے ۔“
_____________________
أخرجه أبو داود (4126) والنسائي (2 / 191) والدارقطني (ص 17) والبيهقي
(1 / 19) وأحمد (6 / 334) عن كثير بن فرقد عن عبد الله بن مالك بن حذافة
عن أمه العالية بنت سبيع قالت: " كان لي غنم بأحد، فوقع فيها الموت، فدخلت
على ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، فذكرت ذلك لها، فقالت: لو
أخذت جلودها فانتفعت بها. فقلت: أو يحل ذلك؟ قالت: نعم. مر على رسول الله
صلى الله عليه وسلم رجال من قريش يجرون شاة لهم مثل الحمار، فقال لهم رسول
الله صلى الله عليه وسلم: لو أخذتم إهابها. قالوا: إنها ميتة. فقال رسول
الله صلى الله عليه وسلم: يطهرها الماء والقرظ ".
__________جزء: 5 /صفحہ: 194__________
قلت: وهذا إسناد ضعيف.
العالية بنت سبيع لم يرو عنها غير ابنها عبد الله بن مالك بن حذافة. وهذا لم
يرو عنه سوى كثير بن فرقد، وقال الذهبي: " فيه جهالة ". لكن للحديث شاهد
قوي من حديث ابن عباس نحوه، وفيه: " أوليس في الماء والقرظ ما يطهرها؟ ".
أخرجه الدارقطني والبيهقي من طريق عمرو بن الربيع بن طارق: حدثنا يحيى بن
أيوب عن عقيل عن الزهري عن عبيد الله عن ابن عباس مرفوعا به. وهذا إسناد صحيح
على شرط الشيخين. (القرظ): ورق السلم يدبغ به.