سلسله احاديث صحيحه
الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان— قربانی، ذبیحوں، کھانے پینے، عقیقے اور جانوروں سے نرمی کرنے کا بیان
باب: چیز کے حلال ہونے کی تحقیق کرنا
- " أمرت الرسل قبلي ألا تأكل إلا طيبا ولا تعمل إلا صالحا ".سیدہ ام عبداللہ رضی اللہ عنہا جو سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں ، نے طویل دن اور سخت گرمی کی وجہ سے افطاری کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دودھ کا ایک پیالہ بھیجا ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قاصد کو واپس کر دیا اور فرمایا کہ ( پوچھ کر آؤ کہ ) یہ دودھ کہاں سے لیا ؟ اس نے جواب بھیجا کہ اپنی بکری کا دودھ ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد کو دوبارہ واپس کر دیا کہ (یہ پوچھ کر آؤ کہ ) وہ بکری کہاں سے لی ہے ؟ اس نے کہا: میں نے اپنے مال کے عوض خریدی ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اتنی چھان بین کے بعد ) وہ پی لیا ۔ دوسرے دن ام عبداللہ رضی اللہ عنہا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول ! میں نے طویل دن اور سخت گرمی کی وجہ سے آپ پر ترس کھاتے ہوئے (کل) دودھ کا پیالہ بھیجا تھا ، لیکن آپ نے (تحقیق کرنے کے لیے ) میرے قاصد کو میری طرف پلٹا دیا ، (ایسے کیوں ہے ) ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مجھ سے قبل رسولوں کو یہی حکم دیا گیا کہ وہ طیّب (یعنی حلال) چیز کھائیں اور صرف نیک عمل کریں ۔“
_____________________
أخرجه أحمد في " الزهد " (ص 398) والحاكم (4 / 125 - 126) عن أبي بكر بن
عبد الله بن أبي مريم عن ضمرة بن حبيب عن أم عبد الله أخت شداد بن أوس.
" أنها بعثت إلى النبي صلى الله عليه وسلم بقدح لبن عند فطره، وذلك في طول
النهار وشدة الحر، فرد إليها رسولها: أنى لك هذا اللبن؟ فقالت: لبن من شاة
لي، فرد إليها رسولها: أنى لك هذه الشاة؟ قالت: اشتريتها من مالي. فشرب،
فلما كان من الغد أتت أم عبد الله رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا
رسول الله بعثت إليك بذلك اللبن مرثية لك من طول النهار وشدة الحر، فرددت إلي
فيه الرسول، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكره. وقال الحاكم:
" صحيح الإسناد ". ورده الذهبي بقوله: " قلت: ابن أبي مريم واه ".
قلت: لكن يشهد له حديث أبي هريرة مرفوعا بلفظ: " أيها الناس إن الله طيب لا
يقبل إلا طيبا وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين، فقال * (يا أيها
الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا، إني بما تعملون عليم) *. . . ".
الحديث. أخرجه مسلم (3 / 85) والترمذي (2992) والدارمي (2 / 300)
وأحمد (2 / 328) من طريق الفضيل بن مرزوق عن عدي بن ثابت عن أبي حازم عنه به
. قلت: وإسناده حسن، فإن فضيل بن مرزوق صدوق يهم كما قال الحافظ في
" التقريب ".
__________جزء: 3 /صفحہ: 128__________