سلسله احاديث صحيحه
الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان— قربانی، ذبیحوں، کھانے پینے، عقیقے اور جانوروں سے نرمی کرنے کا بیان
باب: مجبوری میں مردار کھانا جائز ہے
- " أعندكم ما يغنيكم؟ قال: لا. قال: فكلوها (يعني الناقة) وكانت قد ماتت ".”سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : حرہ مقام پر ایک آدمی کی اونٹنی تھی اس نے وہ کسی دوسرے آدمی کو دے دی اور وہ اب بیمار ہو گئی تھی ۔ جب وہ مرنے لگی تو اس کی بیوی نے اسے کہا: (بہتر ہے کہ) آپ اس کو نحر کر دیں تاکہ ہم سب (اس کا گوشت تو) کھا لیں ۔ لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا (اور وہ اونٹنی مر گئی) ۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ساری بات ذکر کر دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس تمہیں کفایت کرنے کے بقدر کوئی چیز ہے ؟“ اس نے کہا: نہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تو پھر اس (اونٹنی کے مردار) کو کھا لو ۔“ اس وقت وہ اونٹنی مر چکی تھی ۔ اس نے کہا: پس ہم بیس دن تک اس کی چربی اور گوشت کھاتے رہے ۔ پھر ہمیں اس کا پہلا مالک ملا اور پوچھا: تم لوگوں نے اس کو نحر کیوں نہیں کر لیا تھا ؟ میں نے کہا: بس میں آپ سے شرماتا تھا ۔
_____________________
أخرجه الطيالسي (رقم - 1653): حدثنا شريك عن سماك عن جابر بن سمرة: أن
رجلا كانت له ناقة بـ (الحرة) فدفعها إلى رجل، وقد كانت مرضت، فلما أرادت
أن تموت قالت له امرأته: لو نحرتها وأكلنا منها. فأبى، وأتى رسول الله صلى
الله عليه وسلم
__________جزء: 6 /صفحہ: 453__________
وذكر له ذلك، فقال: فذكره، قال: فأكلنا من ودكها ولحمها
وشحمها نحوا من عشرين يوما، ثم لقي صاحبها، فقال له: ألا كنت نحرتها؟ قال:
إني استحييت منك. ومن هذا الوجه أخرجه أحمد (5 / 87 و 88) . قلت: وهذا
إسناد جيد في المتابعات، وهو على شرط مسلم إلا أنه إنما أخرج لشريك متابعة،
وقد تابعه جمع: الأول: حماد بن سلمة: حدثنا سماك به، ولفظه: أن رجلا كان
مع والده بـ (الحرة) فقال له رجل: إن ناقة لي ذهبت، فإن أصبتها فأمسكها.
فوجدها الرجل، فلم يجيء صاحبها حتى مرضت. فقالت له امرأته: انحرها حتى
نأكلها. فلم يفعل حتى نفقت، فقالت امرأته: اسلخها حتى نقدد لحمها وشحمها.
قال: حتى أسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم .. الحديث مثله. أخرجه أحمد (5
/ 96 و 104) وأبو داود (3816) وإسناده صحيح على شرط مسلم الثاني: أبو
عوانة عن سماك بن حرب به مختصرا بلفظ: " بغل " مكان " ناقة ". أخرجه أحمد (5
/ 89 و 97) - وقال ابنه عبد الله: الصواب: " ناقة " -، والحاكم (4 / 125
) وقال: " صحيح على شرط مسلم ". ووافقه الذهبي.