حدیث نمبر: 186
- (بسم الله الرحمن الرحيم: من محمد عبد الله ورسوله: إلى هرقل عظيم الروم؛ سلام على من اتبع الهدى، أما بعد: فإني أدعوك بدعاية الإسلام: أسلم تسلم: يؤتك الله أجرك مرتين؛ فإن توليت فإن عليك إثم الأريسيين؛ و (يا أهل الكتاب تعالوا إلى كلمة سواء بيننا وبينكم أن لا نعبد إلا الله ولا نشرك به شيئاً ولا يتخذ بعضنا بعضاً أرباباً من دون الله فإن تولوا فقولوا اشهدوا بأنا مسلمون)) .
حافظ محفوظ احمد

سیدنا ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (شاہ روم) ہرقل نے اس کو بلانے کے لئے اس کی طرف ایک آدمی بھیجا، جبکہ وہ قریش کے ایک قافلے میں تھا، اس وقت یہ لوگ تجارت کے لئے شام گئے ہوئے تھے اور یہ وہ زمانہ تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور سفیان سے ایک وقتی عہد کیا ہوا تھا، ابوسفیان اور دوسرے لوگ ہرقل کے پاس ایلیا پہنچ گئے، ہرقل نے دربار طلب کیا تھا، اس کے اردگرد روم کے بڑے بڑے لوگ (علماء، وزرا اور امرا) بیٹھے ہوئے تھے۔ ہرقل نے ان کو اور اپنے ترجمان کو بلوایا، پھر ان سے پوچھا کہ تم میں سے کون شخص مدعی رسالت کا زیادہ قریبی عزیز ہے؟ ابوسفیان کہتے ہیں: میں بول اٹھا کہ میں اس کا سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہوں (یہ سن کر) ہرقل نے حکم دیا کہ اس (سفیان) کو میرے قریب لا کر بٹھاؤ اور اس کے ساتھیوں کو اس کے پیٹھ کے پیچھے بٹھا دو، پھر اپنے ترجمان سے کہا: ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں ابوسفیان سے اس شخص (محمد ﷺ) کے حالات پوچھتا ہوں، اگر یہ مجھ سے کسی بات میں جھوٹ بول دے تو تم اس کا جھوٹ ظاہر کر دینا۔ (ابوسفیان کا قول ہے کہ) خدا کی قسم! اگر مجھے یہ غیرت نہ آتی کہ یہ لوگ مجھ کو جھٹلائیں گے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ضرور غلط گوئی سے کام لیتا۔ خیر پہلی بات جو ہرقل نے مجھ سے پوچھی۔ (ہم آسانی کے لئے روایت کا ترجمہ مکالمے کی صورت میں پیش کرتے ہیں) ہرقل: تم لوگوں میں اس شخص کا خاندان کیسا ہے؟ ابوسفیان: وہ بڑے عالی نسب والا ہے۔ ہرقل: اس سے پہلے بھی کسی نے تم لوگوں میں ایسی بات کہی تھی؟ ابوسفیان: نہیں۔ ہرقل: اس کے بڑوں میں کوئی بادشاہ ہوا تھا؟ ابوسفیان: نہیں۔ ہرقل: بڑے لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ہے یا کمزوروں نے؟ ابوسفیان: کمزوروں نے کی ہے۔ ہرقل: اس کے تابعدار روز بروز بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں؟ ابوسفیان: بڑھ رہے ہیں۔ ہرقل: کیا کوئی اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد اس دین کو ناپسند کرتے ہوئے مرتد بھی ہوا ہے؟ ابوسفیان: نہیں۔ ہرقل: کیا اس دعوئ نبوت سے پہلے تم لوگ اس پر جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے؟ ابوسفیان: نہیں۔ ہرقل: کیا وہ دھوکا کرتا ہے؟ ابوسفیان: نہیں اور اب ہماری اس سے (صلح کی) مقرہ مدت ٹھہری ہوئی ہے، معلوم نہیں وہ اس میں کیا کرنے والا ہے۔ میں اس بات کے سوا اور کوئی (جھوٹ) اس گفتگو میں شامل نہ کر سکا۔ ہرقل: کیا تمہاری اس سے کبھی لڑائی ہوئی ہے؟ ابوسفیان: ہاں۔ ہرقل: تمہاری اور اس کی جنگ کا کیا حال ہوا؟ ابوسفیان: کبھی اس کے فریق کو کامیابی ہوئی اور کبھی ہمارے فریق کو، کبھی وہ جیت جاتے کبھی ہم۔ ہرقل: وہ تمہیں کس چیز کا حکم دیتا ہے؟ ابوسفیان: وہ کہتا ہے اللہ کی عبادت کرو، جو یکتا و یگانہ ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور اپنے باپ دادا والی (شرک والی) باتیں چھوڑ دو اور ہمیں نماز پڑھنے، سچ بولنے، پرہیزگاری اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ (یہ سب سن کر) ہرقل نے اپنے ترجمان کو کہا: ابوسفیان سے کہہ دے کہ میں نے تم سے اس کا نسب پوچھا تو تم نے کہا کہ وہ ہم میں عالی نسب ہے اورر پیغمبر اپنی قوم میں عالی نسب ہی ہوتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ (دعوئ نبوت کی) یہ بات تمہارے اندر اس سے پہلے کسی اور نے بھی کہی تھی، تم نے جواب دیا نہیں۔ تب میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ اگر یہ بات اس سے پہلے کسی نے کہی ہوتی تو میں یہ سمجھتا کہ اس شخص نے بھی اس بات کی تقلید کی ہے، جو پہلے کہی جا چکی ہے۔ میں نے تم سے پوچھا اس کے بڑوں میں کوئی بادشاہ بھی گزرا ہے، تم نے کہا نہیں، میں نے (دل میں) کہا کہ اگر ان کے بزرگوں میں سے کوئی بادشاہ گزرا ہوتا تو کہہ دیتا وہ شخص (یہ بہانا بنا کر) اپنے آباؤ اجداد کی بادشاہت اور ان کا ملک (دوبارہ) حاصل کرنا چاہتا ہے اور میں نے تم سے پوچھا کہ اس بات کے کہنے (یعنی پیغمبری کا دعوئ کرنے) سے پہلے تم نے کبھی اس پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا ہے، تم نے کہا کہ نہیں، میں نے سمجھ لیا جو شخص آدمیوں کے ساتھ دروغ گوئی سے بچے وہ اللہ کے بارے میں کیسے جھوٹی بات کہہ سکتا ہے، اور میں نے تم سے پوچھا کہ بڑے اس کے پیرو ہیں یا کمزور آدمی، تم نے کہا کہ کمزوروں نے اس کی اتباع کی ہے، (دراصل) یہی لوگ پیغمبروں کے متبعین ہوتے ہیں اور میں نے تم سے پوچھا اس کے ساتھی بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں، تم نے کہا وہ بڑھ رہے ہیں اور ایمان کی کیفیت یہی ہوتی ہے حتی کے وہ کامل ہو جاتا ہے اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا کوئی شخص اس دین سے ناخوش ہو کر مرتد بھی ہو جاتا ہے، تم نے کہا نہیں۔ درحقیقت ایمان کی خاصیت بھی یہی ہے جن کے دلوں میں اس کی مسرت رچ بس جائے وہ اس سے لوٹا نہیں کرتے اور میں نے تم سے پوچھا ، آیا اس نے کبھی عہدشکنی بھی کی ہے، تم نے کہا کہ نہیں، پیغمبروں کا یہی حال ہوتا ہے وہ عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتے اور میں نے تم سے کہا کہ وہ تمہیں کس چیز کا حکم دیتا ہے، تم نے کہا وہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ اللہ تعالی کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور تمہیں بتوں کی پرستش سے روکتا ہے، سچ بولنے اور پرہیزگاری کا حکم دیتا ہے۔ اگر یہ باتیں، جو تم کہہ رہے ہو، سچ ہیں تو عنقریب وہ اس جگہ کا مالک بن جائے گا، جہاں میرے دو پاؤں ہیں۔ مجھے معلوم تھا وہ (پیغمبر) آنے والا ہے، لیکن یہ معلوم نہیں تھا وہ تمہارے اندر ہو گا، اگر میں جانتا کہ اس تک پہنچ سکوں گا تو اس سے ملنے کے لئے ہر تکلیف گوارا کرتا۔ اگر میں اس کے پاس ہوتا تو اس پاؤں دھوتا۔ ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ خط منگوایا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے ذریعے حاکم بصریٰ کے پاس بھیجا تھا اور اس نے وہ ہرقل کے پاس بھیج دیا تھا، پھر اس کو پڑھا تو اس میں (لکھا تھا): «بسم اللہ الرحمٰن الرحیم» یہ خط اللہ کے بندے اور پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شاہ روم کی طرف ہے۔ اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے اس کے بعد میں تم پر دعوت اسلام پیش کرتا ہوں، اگر آپ اسلام لے آئیں گے تو (آپ کو دین و دنیا میں) سلامتی نصیب ہو گی، اللہ تعالی آپ کو دوہرا ثواب دے گا اور اگر آپ (میری دعوت) سے روگردانی کریں گے تو آپ کی رعایا کا گناہ بھی آپ ہی پر ہو گا اور اے اہل کتاب! ایک ایسی بات پر آ جاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے، وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور نہ ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا اپنا رب بنائے۔ پھر اگر وہ اہل کتاب (اس بات سے) منہ پھیر لیں تو (مسلمانو!) تم ان سے کہہ دو کہ (تم مانو یا نہ مانو) ہم تو ایک اللہ کے اطاعت گزار ہیں۔ ابوسفیان کہتے ہیں: جب ہرقل نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا اور خط پڑھ کر فارغ ہوا تو اس کے اردگرد بہت شور و غوغا ہوا۔ بہت سی آوازیں اٹھیں اور ہمیں باہر نکال دیا گیا۔ تب میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا ابوکبشہ کے بیٹے (محمد ﷺ) کا معاملہ تو بہت بڑھ گیا۔ (دیکھو کہ) اس سے بنو اصفر (رومیوں) کا بادشاہ بھی ڈرتا ہے۔ مجھے اس وقت اس بات کا یقین ہو گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عنقریب غالب ہو کر رہیں گے، حتی کہ اللہ تعالی نے مجھے مسلمان کر دیا۔ (راوی کا بیان ہے کہ) ابن ناطور ایلیا کا حاکم ہرقل کا مصائب اور شام کے نصاریٰ کا لاٹ پادری بیان کرتا ہے کہ ہرقل جب ایلیا آیا، تو ایک دن صبح کو پریشان اٹھا، اس کے درباریوں نے دریافت کیا کہ آج ہم آپ کی حالت بدلی ہوئی پاتے ہیں، (کیا وجہ ہے؟) ابن ناطور کا بیان ہے کہ ہرقل نجومی تھا، وہ علم نجوم میں پوری مہارت رکھتا تھا، اس نے اپنے ہم نشینوں کو بتایا میں نے آج رات ستاروں پر نظر ڈالی کہ ختنہ کرنے والوں کا بادشاہ ہمارے ملک پر غالب آ گیا ہے، (بھلا) اس زمانے میں کون لوگ ختنہ کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا یہود کے سوا کوئی ختنہ نہیں کرتا، سو ان کی وجہ سے پریشان نہ ہوں، سلطنت کے تمام شہروں میں یہ حکم لکھ بھیجئے کہ وہاں جتنے یہودی ہوں سب قتل کر دیئے جائیں۔ وہ لوگ انہیں باتوں میں مشغول تھے کہ ہرقل کے پاس ایک آدمی لایا گیا، جسے شاہ غسان نے بھیجا تھا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بیان کئے۔ جب ہرقل نے سارے حالات سن لئے تو کہا جا کر دیکھو کہ وہ ختنہ کیے ہوئے ہے یا نہیں؟ انھوں نے اسے دیکھا تو بتلایا کہ وہ ختنہ کیے ہوئے ہے۔ ہرقل نے جب اس شخص سے عرب کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتلایا کہ وہ ختنہ کرتے ہیں، تب ہرقل نے کہا کہ یہ وہی (محمد ﷺ) اس امت کے بادشاہ ہیں جو پیدا ہو چکے ہیں۔ پھر اس نے اپنے ایک دوست کو رومیہ خط لکھا اور وہ بھی علم نجوم میں ہرقل کی طرح ماہر تھا۔ پھر وہاں سے ہرقل حمص چلا گیا۔ ابھی حمص سے نکلا نہیں تھا کہ اس کے دوست کا جوابی خط آ گیا۔ اس کی رائے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بارے میں ہرقل کی رائے کے موافق تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم (واقعی) پیغمبر ہیں۔ اس کے بعد ہرقل نے روم کے بڑے آدمیوں کو حمص کے محل میں طلب کیا اور اس کے حکم سے محل کے دروازے بند کر دیئے گئے۔ پھر وہ (اپنے خاص محل سے) باہر آیا اور کہا: اے روم والو! کیا ہدایت اور کامیابی میں کچھ حصہ تمہارے لئے بھی ہے؟ اگر تم اپنی سلطنت کی بقاء چاہتے ہو تو پھر اس نبی کی بیعت کر لو اور مسلمان ہو جاؤ (یہ سننا ہی تھا کہ) وہ سب وحشی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف دوڑے، مگر دروازوں کو بند پایا۔ آخر جب ہرقل نے (اس بات سے) ان کی یہ نفرت دیکھی اور ان کے ایمان لانے سے مایوس ہو گیا تو کہنے لگا کہ ان لوگوں کو میرے پاس لاؤ۔ (جب وہ دوبارہ آئے) تو اس نے کہا: میں نے جو بات کہی تھی اس سے تمہاری دینی پختگی کی آزمائش مقصود تھی، سو میں نے اس کو دیکھ لی۔ تب (یہ بات سن کر) وہ سب کے سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑے اور اس سے خوش ہو گئے۔ یہ ہرقل کا آخری معاملہ تھا۔

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 186
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 7 | صحيح البخاري: 2941 | سنن ابي داود: 5136 | صحيح مسلم: 1773 | سلسله احاديث صحيحه: 4033 | الادب المفرد: 1109
- (بسم الله الرحمن الرحيم: من محمد عبد الله ورسوله: إلى هرقل عظيم الروم؛ سلام على من اتبع الهدى، أما بعد: فإني أدعوك بدعاية الإسلام: أسلم تسلم: يؤتك الله أجرك مرتين؛ فإن توليت فإن عليك إثم الأريسيين؛ و (يا أهل الكتاب تعالوا إلى كلمة سواء بيننا وبينكم أن لا نعبد إلا الله ولا نشرك به شيئاً ولا يتخذ بعضنا بعضاً أرباباً من دون الله فإن تولوا فقولوا اشهدوا بأنا مسلمون)) .
_____________________

رواه البخاري (رقم 7- واللفظ له - و 51 و 2681 و 2941 و 2979 و 3174 و 4553 و 5980 و 6260 و 7196)، ومسلم (5/163 - 166)، والترمذي (2717)، والنسائي في "الكبرى" (11064)، وعبد الرزاق (9724)، وابن حبان (6555)، وأحمد (1/263)، وا بن منده في "الإيمان " (143)، والطحاوي في "مشكل الآثار" (1380و 1977)، وابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني " (488)، والبيهقي في "دلائل النبوة" (4/380 - 381) -، واللالكائي في "شرح أصول اعتقاد أهل السنة " (1457)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق " (23/428) من طرق عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود أن عبد الله بن عباس أخبره أن أبا سفيان بن حرب أخبره: أن هرقل أرسل إليه في ركب من قريش، وكانوا تجاراً بالشام في المدة التي كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - مادَّ فيها أبا سفيان وكفار قريش، فأتوه وهم بإيلياء، فدعاهم
في مجلسه، وحوله عظماء الروم، ثم دعاهم ودعا بترجمانه، فقال: أيكم أقرب نسباً بهذا الرجل الذي يزعم أنه نبي؛ فقال أبو سفيان: فقلت: أنا أقربهم نسباً، فقال: أدنوه مني، وقربوا أصحابه فاجعلوهم عند ظهره، ثم قال لترجمانه: قل لهم: إني سائل هذا الرجل، فإن كذبني فكذبوه، فوالله لولا الحياء من أن يأثروا عليَّ كذباً لكذبت عنه، ثم كان أول ما سألني عنه؛ أن قال: كيف نسبه فيكم؛ قلت: هو فينا ذو نسب، قال: فهل قال هذا القول منكم أحد قط قبله؟ قلت: لا، قال: فهل كان من آبائه من ملك؟ قلت: لا، قال: فأشراف الناس يتبعونه أم ضعفاؤهم؟ فقلت: بل ضعفاؤهم، قال: أيزيدون أم ينقصون؟ قلت: بل يزيدون، قال: فهل يرتد أحد منهم سُخطة لدينه بعد أن يدخل فيه؟ قلت: لا، قال: فهل كنت تتهمونه بالكذب قبل أن يقول ما قال؟ قلت: لا، قال: فهل يغدر؟ قلت: لا، ونحن منه في مدَّة لا ندري ما هو فاعل فيها؟! قال: ولم تمكنِّي كلمة أدخل فيها شيئاً غير هذه الكلمة، قال: فهل قاتلتموه؟ قلت: نعم، قال: فكيف كان قتالكم إياه؟ قلت: الحرب بيننا وبينه سجال، ينال منا وننال منه، قال: ماذا يأمركم؟ قلت: يقول: اعبدوا الله وحده ولا تشركوا به شيئاً، واتركوا ما يقول آباؤكم، ويأمرنا بالصلاة والصدق والعفاف والصِّلة.
فقال للترجمان: قل له: سألتك عن نسبه؟ فذكرت أنه فيكم ذو نسب؛ فكذلك الرسل تبعث في نسب قومها، وسألتك: هل قال أحد منكم هذا القول؟ فذكرت أن لا؛ فقلت: لو كان أحد قال هذ القول قبله؛ لقلت: رجل يأتسي بقول قيل قبله، وسألتك: هل كان من آبائه من ملك؛ فذكرت أن لا، قلت: فلو كان من آبائه من ملك؛ قلت: رجل يطلب ملك أبيه، وسألتك: هل كنتم تتهمونه بالكذب قبل أن يقول ما قال؟ فذكرت أن لا، فقد أعرف أنه لم يكن ليذر الكذب
__________جزء: 7 /صفحہ: 1607__________

على الناس؛ ويكذب على الله، وسألتك: أشراف الناس اتبعوه أم ضعفاؤهم؟ فذكرت أن ضعفاءهم اتبعوه؛ وهم أتباع الرسل، وسألتك: أيزيدون أم ينقصون؟ فذكرت أنهم يزيدون؛ وكذلك أمر الإيمان حتى يتم، وسألتك: أيرتد أحد سخطةً لدينه بعد أن يدخل فيه؟ فذكرت أن لا؛ وكذلك الإيمان حين تخالط بشاشته القلوب، وسألتك: هل يغدر؟ فذكرت أن لا؛ وكذلك الرسل لا تغدر، وسألتك: بما يأمركم؟ فذكرت أنه يأمركم أن تعبدوا الله ولا تشركوا به شيئاً، وينهاكم عن عبادة الأوثان، ويأمركم بالصلاة والصدق والعفاف؛ فإن كان ما تقول حقاً؛ فسيملك موضع قدمي هاتين، وقد كنت أعلم أنه خارج، لم أكن أظن أنه منكم، فلو أني أعلم أني أخلص إليه؛ لتجشمت لقاءه، ولو كنت عنده؛ لغسلت عن قدمه.
ثم دعا بكتاب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - الذي بعث به دحية إلى عظيم بصرى، فدفعه إلى هرقل، فقرأه، فإذا فيه ... فذكره
قال أبو سفيان: فلما قال ما قال، وفرغ من قراءة الكتاب؛ كثر عنده الصخب، وارتفعت الأصوات، وأخرجنا، فقلت لأصحابي حين أخرجنا: لقد أمِرَ أمرُ ابن أبي كبشة! إنه يخافه ملك بني الأصفر، فما زلت موقناً أنه سيظهر؛ حتى أدخل الله علي الإسلام.
وكان ابن الناطور- صاحب إيلياء- وهرقل سُقُفَاً على نصارى الشام؛ يحدث أن هرقل حين قدم إيلياء أصبح يوماُ خبيث النفس، فقال بعض بطارقته: قد استنكرنا هيئتك، قال ابن الناطور: وكان هرقل حزَّاءً ينظر في النجوم، فقال لهم حين سألوه: إني رأيت الليلة - حين نظرت في النجوم - ملك الختان قد ظهر، فمن يختتن من هذه الأمة؛ قالوا: ليس يختتن إلا اليهود، فلا يهمَّنَّك شأنهم، واكتب إلى مدائن ملكك؛ فيقتلوا من فيهم من اليهود، فبينما هم على أمرهم؛ أتي هرقل
__________جزء: 7 /صفحہ: 1608__________

برجل أرسل به ملك غسان يخبر عن خبر رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فلما استخبره هرقل؛ قال: اذهبوا فانظروا أمختتن هو أم لا؟ فنظروا إليه، فحدثوه أنه مختتن، وسأله عن العرب؟ فقال: هم يختتنون، فقال هرقل: هذا ملك هذه الأمة قد ظهر، ثم كتب هرقل إلى صاحب له برومية، وكان نظيره في العلم، وسار هرقل إلى حمص، فلم يَرِمْ حمص حتى أتاه كتاب من صاحبه يوافق رأي هرقل على خروج النبي - صلى الله عليه وسلم - وأنه نبي، فأذن هرقل لعظماء الروم في دَسْكَرة له بحمص، ثم أمر بأبوابها فغلقت، ثم اطَّلع فقال؛ يا معشر الروم! هل لكم في الفلاح والرشد، وأن يثبت ملككم، فتبايعوا هذا النبي؟ فحاصوا حيصة حُمُرِ الوحش إلى الأبواب؛ فوجدوها قد غلقت، فلما رأى هرقل نفرتهم، وأيس من الإيمان قال: ردوهم علي، وقال: إني قلت مقالتي آنفا ً؛ أختبر بها شدتكم على دينكم، فقد رأيت، فسجدوا له ورضوا عنه، فكان ذلك آخر شأن هرقل.
قلت: وقد ورد الحديث نفسه على وجه آخر:
فرواه البخاري (2936 و 2940)، وأبو داود (5136)، والنسائي في " الكبرى " (5858 و 8845)، وأحمد (1/162 - 263 و 263)، والبيهقي في "الدلائل " (4/377 - 380)، وابن عساكر في "تاريخه " (23/422) من طريق الزهري عن عبيد الله بن عبد الله أن عبد الله بن عباس أخبره:
أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ... فذكر الحديث دون ذكر أبي سفيان مخبراً ابن عباس.
وهذا معدود من مراسيل الصحابة؛ وهي مقبولة عند جماهير أهل السنة والحديث - بحمد الله تعالى -.
(فائدة): قول أبي سفيان- في الحديث -: (لقد أمِرَ أمرُ ابن أبي كبشة) ؛ معناه - كما قال ابن الأثير في "النهاية" (4/144) -:
__________جزء: 7 /صفحہ: 1609__________

"كان المشركون ينسبون النبي - صلى الله عليه وسلم - إلى أبي كبشة؛ وهو رجل من خزاعة، خالف قريشاً في عبادة الأوثان، وعبد الشِّعرى والعَبُور (¬1)، فلما خالفهم النبي - صلى الله عليه وسلم - في عبادة الأوثان؛ شبهوه به ".
و (أمر): كثُرَ، وتمًّ.
والحديث كنت قد خرجته- قديماً- في "الإرواء " (1/37) مختصراً. *

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2941 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2941. حضرت ابن عباس ؓ ہی سےروایت ہے، انھوں نے فرمایا: مجھے ابو سفیان نے خبر دی کہ وہ قریش کے کچھ آدمیوں کے ہمراہ شام میں تھے جو تجارت کی غرض سےیہاں آئے تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ اور کفار قریش کے درمیان صلح ہو چکی تھی۔ ابو سفیان نے کہا کہ قیصر کے قاصد نے ہمیں شام کے کسی علاقے میں تلاش کر لیا اور وہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو اپنے ساتھ لے کر چلا حتی کہ ہم بیت المقدس پہنچے تو ہمیں قیصر روم کے دربار میں پہنچا دیا گیا وہ اپنے شاہی دربار میں سر پر (بادشاہت کا)تاج سجائے بیٹھا ہوا تھا اورروم کے امراء و وزراء اس کے اردگرد جمع تھے۔ اس نے اپنے ترجمان سے کہا: ان لوگوں سے دریافت کرو کہ وہ آدمی جو خود کو نبی کہتا ہے نسب کے اعتبار سے تم میں سے کون اس کے زیادہ قریب ہے؟ ابوسفیان نے کہا: نسب کے اعتبار سے میں اس کے زیادہ قریب ہوں۔ شاہ روم نے پوچھا کہ تمھاری اور اس کی کیا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:2941]
حدیث حاشیہ:

مذکورہ حدیث "حدیث ہرقل" کے نام سے مشہور ہے۔
امام بخاری ؒنے اس سے متعدد مسائل کا استنباط کیا ہے اور اسے متعدد مقامات پر مختصر اور تفصیل سے بیان کیا ہے اس مقام پر اسے پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ غیر مسلم حضرات کو دعوت اسلام کس طرح دینی چاہیے اس کی وضاحت کی ہے۔
اس میں شاہ روم ہرقل کو دعوت اسلام دینے کا اسلوب بیان ہوا ہےکہ جہاد وقتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینا ضروری ہے۔

اس میں ابو سفیان ؓ اور اس طرح دیگر سرداران قریش کو جو آپ نے دعوت دی تھی اس کا حاصل بیان ہوا ہے۔
چنانچہ حضرت ابو سفیان ؓ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہو گئے اور انھیں مؤلفہ القلوب میں شمار کیا گیا۔
قبل ازیں وہ مشرکین کے کمانڈر کی حیثیت سے غزوہ بدر اور غزوہ اُحد میں شریک رہے۔
آخرکار اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کی حقانیت ان کے دل میں پیوست کردی اور وہ مسلمان ہو گئے۔
اس وقت جو دل میں کراہت تھی وہ بھی اللہ تعالیٰ نے دل سے نکال دی۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2941 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7. حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ابوسفیان بن حرب ؓ نے ان سے بیان کیا کہ ہرقل (شاہ روم) نے انہیں قریش کی ایک جماعت سمیت بلوایا۔ یہ جماعت (صلح حدیبیہ کے تحت) رسول اللہ ﷺ، ابوسفیان اور کفار قریش کے درمیان طے شدہ عرصہ امن میں ملک شام بغرض تجارت گئی ہوئی تھی۔ یہ لوگ ایلیاء (بیت المقدس) میں اس کے پاس حاضر ہو گئے۔ ہرقل نے انہیں اپنے دربار میں بلایا۔ اس وقت اس کے اردگرد روم کے رئیس بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر اس نے ان کو اور اپنے ترجمان کو بلا کر کہا: یہ شخص جو اپنے آپ کو نبی سمجھتا ہے تم میں سے کون اس کا قریبی رشتہ دار ہے؟ ابوسفیان ؓنے کہا: میں اس کا سب سے زیادہ قریب النسب ہوں۔ تب ہرقل نے کہا: اسے میرے قریب کر دو اور اس کے ساتھیوں کو بھی قریب کر کے اس کے پس پشت بٹھاؤ۔ اس کے بعد ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا: ان سے کہو کہ میں اس شخص سے اس آدمی (نبی ﷺ) کے متعلق سوالات۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:7]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے پہلے وحی نزول وحی، اقسام وحی اور زمانہ وحی سے متعلقہ احادیث بیان کی ہیں۔
اب ضرورت تھی کہ جس شخصیت پر وحی کا نزول ہوا ہے اس مبارک ہستی کا بھی تعارف کرایا جائے، چنانچہ اس حدیث میں موحیٰ الیہ، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال واعمال اورآپ کی تعلیمات کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے، نیز اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر دو زبردست اور ناقابل تردید شہادتیں موجود ہیں: ایک ابوسفیان کا بیان، جو اس وقت آپ کا سخت دشمن تھا۔
دوسرے ہرقل کی تصدیق، جو اس وقت ایک عظیم سلطنت کا فرمانروا اور مستند عالم اہل کتاب تھا۔
اس کے علاوہ باب کی غرض عظمت وحی کو بیان کرنا بھی ہے۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اوصاف عالیہ کو بیان کیا گیا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہی کی ذات ستودہ صفات وحی الٰہی کی حق دار تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عظمت سے وحی الٰہی کی عظمت خود ظاہر ہے۔

ہرقل روم کے بادشاہ کانام تھا اور اس ملک کے بادشاہ کو قیصر کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔
یہ حدیث اس مناسبت سے حدیث ہرقل کہلاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کفار کی طرف سے بیرونی خلفشار اور اندرونی محاذ آرائی سے فارغ ہوئے توآپ نے مختلف ملوک وسلاطین کو دعوتی خطوط ارسال کیے، چنانچہ آپ نے حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ ایک خط قیصر روم کو بھی روانہ کیا جو ان دنوں ایفائے نذر کے لیے بیت المقدس آیا ہوا تھا۔
ہوا یوں کہ اس وقت دنیا کی دو بری حکومتیں فارس اور روم مدت دراز سے آپس میں ٹکراتی چلی آرہی تھیں۔
بالآخر فارس نے روم کو ایک فیصلہ کن شکست سے دوچار کردیا اور شام، مصر اور ایشیائے کو چک کے تمام ملک رومیوں کے ہاتھ سے نکل گئے۔
ایسے حالات میں قرآن نے پیشین گوئی فرمائی کہ بلاشبہ رومی اہل فارس سے مغلوب ہوچکے ہیں لیکن چند سالوں کے اندر اندر وہ فاتح بن کر ابھریں گے، چنانچہ ہرقل ایسے مایوس کن اور حوصلہ شکن حالات میں اپنا زائل شدہ اقتدار واپس لینے کے لیے سرگرم ہوگیا اور اس وقت نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے مجھے فتح وکامرانی دی تو حمص سے پیدل چل کر بیت المقدس پہنچوں گا اور اللہ کا شکر ادا کروں گا۔
آخر کار اللہ تعالیٰ نے رومی اہل کتاب کو ایرانی مجوسیوں پر غالب کردیا، چنانچہ ان دنوں ایفائے نذر کے لیے ہرقل بیت المقدس آیا ہوا تھا۔

ہرقل کے حوالے سے اس حدیث کا تعلق گویا کتاب بدء الوحی اور کتاب الایمان دونوں سے ہے۔
وحی کے ساتھ تعلق بایں طور ہے کہ ہرقل جو عیسائی مذہب کاحامل تھا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار کیا جو وحی کا نتیجہ ہے۔
اور اس حدیث کا مابعد کتاب، کتاب الایمان سے تعلق اس طرح ہے کہ ایمان کی امتیازی علامت عمل ومتابعت ہے جو ہرقل میں نہ تھی، تصدیق جلی اور اقرار موجود ہے لیکن اس کے مطابق عمل نہ کرنے سے کافر ہی رہا۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کتاب کو حدیث نیت سے شروع کیا تھا، گویا آپ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگر ہرقل کی نیت درست تھی تو اسے کچھ فائدہ پہنچنے کی امید ہے، بصورت دیگر اس کے مقدر میں ہلاکت اور تباہی کےسوا کچھ نہیں۔
(فتح الباري: 1؍61)

ابوسفیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوکبشہ کی طرف منسوب کیا کہ ابن ابی کبشہ کا معاملہ تو بہت بڑھ گیا ہے۔
دراصل عرب کا یہ طریقہ ہے کہ کسی کو تحقیر واستہزا کے پیش نظر اسے ایسے شخص کی طرف منسوب کردیتے ہیں جو گمنام ہو لیکن اس مقام پر اصل بات یہ ہے کہ عرب میں ابوکبشہ نامی ایک شخص بھی گزرا تھا جس نے اپنا آبائی دین چھوڑ کر شعریٰ ستارے کی پرستش شروع کردی تھی۔
چونکہ ابو کبشہ نے ایک نیا دین اختیار کیاتھا۔
اس لیے ہر وہ شخص جو عرب کے آبائی دین سے ہٹ کر نیا دین اختیار کرتا، اسے ابن ابی کبشہ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔
(فتح الباري: 1؍57)
اس سلسلے میں کچھ اور تاویلات بھی کی گئی ہیں، ان تمام میں قدرمشترک یہی ہے کہ ابوسفیان نے مذاق اور حقارت سے یہ اسلوب اختیار کیا۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگرکافر کسی لقب سے معروف ومشہور ہوتو مسلمانوں کے لیے اسے اس کے لقب سے پکارنا جائز ہے۔
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقل کو عظیم الروم کے لقب سے یاد کیا۔
اسلام دشمنوں کےساتھ نرمی اور ملاطفت کاطریقہ سکھاتا ہے، اس لیے کسی قوم کے معززو مکرم شخص کے لیے اونچے القاب استعمال کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف نہیں۔
اس کا کم از کم فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دشمن اگردوستی پر آمادہ نہ ہوتو دشمنی میں کمی ضرور آجاتی ہے ہرقل چونکہ رومیوں کی نظر میں باعظمت تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسےمروجہ لقب ہی سے یاد کیا ہے۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اختتام پر ایسے الفاظ لاتے ہیں جن سے پڑھنے والے کے لیے اپنی آخرت کے متعلق غوروفکر کرنے کی راہیں کھلتی ہیں وقت گزرجاتا ہے عمرختم ہوجاتی ہے لیکن انسان کے اچھے یا بُرے اعمال کے اثرات ختم نہیں ہوتے۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھائی یا بُرائی کامعاملہ اس کے خاتمے سے ہوتا ہے۔
ہرقل کا معاملہ بھی ایسا ہی رہا، وہ ایمان نہ لاسکا حالانکہ اسے بہترین مواقع میسر آئے تھے۔
بہرحال امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ لوگوں کو انجام اور خاتمے کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ ہرقل کا انجام جنت ہوگا یا دوزخ؟ اس سے قطع نظر، تم اپنے خاتمے پر غوروفکر کرو اورآخری حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی تیاری میں اپنے آپ کو مصروف کرو۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس باب کی چھ احادیث سے یہ سمجھایا ہے کہ آگے کتاب میں جس قدر احکام ومسائل آئیں گے وہ سب وحی الٰہی سے ماخوذ ہیں جو محفوظ عن الخطا اور نہایت ہی عظیم الشان ہیں۔
اور وحی کی عظمت بیان کرنے کے بعد سب سے پہلے کتاب الایمان لائے ہیں جو دین اسلام کی خشت اول ہے اور اسی ایمان پر آخرت میں نجات کامدار ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5136 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ذمی (کافر معاہد) کو کس طرح خط لکھا جائے؟`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقل کے نام خط لکھا: " اللہ کے رسول محمد کی طرف سے روم کے بادشاہ ہرقل کے نام، سلام ہو اس شخص پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔‏‏‏‏" محمد بن یحییٰ کی روایت میں ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ ابوسفیان نے ان سے کہا کہ ہم ہرقل کے پاس گئے، اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا تو اس میں لکھا تھا: «بسم الله الرحمن الرحيم، من محمد رسول الله إلى هرقل عظيم الروم سلام على من اتبع الهدى أما بعد» ۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5136]
فوائد ومسائل:

خط ہو یا کوئی اوراہم تحریریں اس کی ابتداء میں بسم الله الرحمٰن الرحيم ’’لکھنا سنت ہے۔
اس کی بجائے عدد لکھنا خلاف سنت اور بدعت سیئہ ہے۔


خط میں پہلے کاتب اپنا نام لکھے اس کے بعد مکتوب الیہ کا

کافر کے نام خط میں مسنون سلام کی بجائے یوں لکھا جائے۔
(وَالسَّلَامُ عَلَىٰ مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَىٰ) سلامتی ہو اس پر جو ہدایت کا پیروکار ہو۔


اسلام کی دعوت یا کسی اور شرعی غرض سے قرآن مجید کی آیات لکھ دینا بھی جائز ہے۔
اس وجہ سے کے یہ کافر کے ہاتھ میں جایئں گی۔
آیات تحریر کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
الا یہ کہ خوب واضح ہو کہ وہ آیات قرآنیہ کی ہتک کریں گے۔
اس صورت میں یقیناً نہ لکھی جایئں۔
اور یہی مسئلہ قرآن مجید کا ہے۔
دعوت اسلام کی غرض سے کافر کو قرآن مجید دیا جا سکتا ہے۔


دعوت کے میدان کو حتیٰ الامکان پھیلانا چاہیے۔
اور تحریری میدان میں بھی یہ کارخیر سرانجام دیا جانا چاہیے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5136 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1773 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابو سفیان نے روبرو بتایا کہ میں اس معاہدہ کے دوران جو میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہوا تھا، میں شام میں ہی تھا کہ شاہ روم کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب لایا گیا اور لانے والے دحیہ کلبی رضی اللہ تعالی عنہ تھے، اس نے اسے بصریٰ کے حاکم کے حوالہ کیا اور بصریٰ کے حاکم نے وہ ہرقل کو دے دیا تو ہرقل نے پوچھا، کیا ادھر اس آدمی کی قوم کا کوئی فرد موجود ہے،... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4607]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اس سے مراد وہ عرصہ ہے، جس میں قریش مکہ نے حدیبیہ کے مقام پر 6ھ میں دس سال تک لڑائی نہ کرنے کی صلح کی تھی۔
(2)
هِرَقل: مشہور قول کے مطابق، ھاء پر زیر ہے اور را پر زبر، قاف ساکن ہے، اگرچہ ایک قول کے مطابق را ساکن ہے اور قاف پر زیر ہے، یعنی هرقل اور یہ روم کے بادشاہ کا نام ہے۔
(3)
ترجمان: امام نووی کے نزدیک تاء پر زبر اور جیم پر پیش پڑھنا بہتر ہے، اگرچہ دونوں پر زیر اور دونوں پر پیش پڑھنا بھی درست ہے، ترجمہ کرنے والا، مترجم، ’’ایک زبان کو دوسری زبان میں منتقل کرنے والا۔
‘‘ (4)
لَوْلَا مَخَافَةُ أَنْ يُؤْثَرَ عَلَيَّ الْكَذِبُ: اگر اندیشہ نہ ہوتا کہ میری طرف سے جھوٹ نقل کیا جائے گا، جس سے معلوم ہوتا ہے، اسے یہ اندیشہ نہیں تھا کہ وہ اسے وہاں جھوٹا قرار دیں، لیکن وہ یہ سمجھتا تھا کہ میں جو یہاں جھوٹی بات کہوں گا مکہ جا کر وہ اسے نقل کریں گے تو لوگ مجھے جھوٹا قرار دیں گے، اس طرح وہ جھوٹ بولنا اپنے مقام و مرتبہ کے مناسب نہیں سمجھتا تھا، جب اب صورت حال یہ ہے کہ مسلمان لیڈروں کا اوڑھنا بچھونا ہی جھوٹ ہے اور اس کے بغیر ان کا کام ہی نہیں چل سکتا۔
(5)
أشراف: شريف کی جمع ہے، مراد عمومی اور غالب صورت ہے، کہ عام طور پر اہل نخوت اور چوہدری لوگ ابتداً انبیاء کی مخالفت کرتے ہیں، اگرچہ کچھ ان کا ساتھ بھی دیتے ہیں۔
(6)
سخطة له: دین کے کسی عیب یا نقص سے ناراض ہو کر مرتد ہونا، کیونکہ کسی اور سبب سے الگ ہونا ناممکن ہے۔
(7)
تَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَنا وَبَيْنَهُ سِجَالً: ا کہ ہمارے اور اس کے درمیان لڑائی کا اسلوب ڈول کھینچنے کا ہے، کبھی وہ غالب آتا ہے، کبھی ہم، کیونکہ اس وقت تین عظیم جنگیں ہو چکی تھیں، بدر، اُحد اور خندق، بدر میں مسلمان غالب، اُحد میں بظاہر وہ غالب، اگرچہ انجام کے اعتبار سے مسلمان فاتح تھے اور خندق میں کافر حملہ آور ہوئے تھے، لیکن ناکام لوٹے تھے۔
(8)
مَا أَمْكَنَنِي مِنْ كَلِمَةٍ: کہ مجھے کہیں ایسا موقعہ نہیں ملا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی عیب اور کمزوری منسوب کر سکوں، لیکن یہاں چونکہ معاہدہ کا تعلق آئندہ زمانہ سے تھا، اس لیے میں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ عہد شکنی نہیں کرے گا، اپنی لاعلمی کا اظہار کیا اور ان کے مکان رفیع کو گرانے کی کوشش کی، لیکن ہرقل نے اس کی اس بات کی کوئی اہمیت نہیں دی، اس لیے اپنے تبصرہ میں کہا، تیرا خیال اور قول یہ ہے کہ وہ عہد شکنی نہیں کرتا۔
(9)
إِذاخَالَطَ بشَاشَة القُلَوب: جب وہ دل کے انشراح اور فردت میں اتر جاتا ہے، اس میں گھر بنا لیتا ہے تو وہ نکلتا نہیں ہے اور کوئی انسان ایمان سے پھر کر ارتداد اختیار نہیں کرتا۔
(10)
إِنْ يَكُنْ مَا تَقُولُ فِيهِ حَقًّا: اگر تمہاری یہ باتیں سچی ہیں تو پھر یہ زمین جہاں میں کھڑا ہوں، وہ بھی ان کے اقتدار اور حکومت میں آ جائے گی۔
ہرقل نے انتہائی بصیرت اور زیرکی سے ابو سفیان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں انتہائی جچے تلے اور بنیادی سوالات کیے اور اس کے جوابات کی روشنی میں، صحیح صحیح نتائج اخذ کیے اور اسے یقین ہو گیا کہ آپ واقعی نبی ہیں اور چونکہ وہ تورات اور انجیل کا ماہر تھا اور علم نجوم سے آگاہ تھا، اس لیے اس کو پتہ چل چکا تھا کہ آخری نبی پیدا ہونے والا ہے اور آپ کی علامات سے اس کو آپ کے نبی ہونے کا یقین ہو گیا، اس لیے اس نے آپ سے انتہائی عقیدت اور محبت کا اظہار کیا، لیکن اقتدار کی ہوس اور خواہش نے اسے اندھا کر دیا اور آپ کے اس جملہ اسلم تسلم سے وہ یہ صحیح نتیجہ نہ نکال سکا کہ مسلمان ہونے کے بعد میری حکومت برقرار رہے گی، اس لیے مسلمان نہ ہوا بلکہ جنگ موتہ 8ھ میں مسلمانوں کے خلاف میدان مقابلہ میں آیا اور آپ نے یہاں سے اسے دوبارہ خط لکھا، لیکن اس نے پھر بھی اپنے اسلام کا اظہار کیا، آپ کے جواب میں، اپنے مسلمان ہونے کا اظہار کیا، لیکن مسلمانوں کے مقابلہ سے پیچھے نہ ہٹا اور اپنی قوم کے سامنے اسلام کا اظہار نہ کیا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس نے جھوٹ لکھا ہے، وہ عیسائیت پر قائم ہے۔
‘‘ فوائد ومسائل: آپﷺ نے ہرقل کے نام کو خط لکھا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر کافر کو بھی خط لکھا جائے تو اس کا آغاز بسم اللہ سے کیا جائے گا، پھر لکھنے والا اپنا نام شروع میں لکھ دے گا تاکہ مکتوب الیہ کو پتہ چل جائے لکھنے والا کون ہے اور اس کے مطابق خط کو اہمیت دے، نیز مکتوب الیہ کے لیے، اس کے مقام و مرتبہ کے مطابق مناسب تعظیمی القاب لکھے جائیں گے، تاکہ وہ شروع ہی سے نفرت و غضب کا شکار نہ ہو جائے، اس لیے آپ نے ہرقل کے لیے عظیم الروم کے الفاظ استعمال کیے اور اس خط سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کافر کو سلام کہنے میں پہل نہیں کی جائے گی، اکثر علماء کا یہی قول ہے اور صحیح احادیث سے اس کا تائید ہوتی ہے، بلکہ بعض علماء کا خیال تو یہ ہے کہ بدعتی اور فاسق و فاجر کو بھی سلام نہیں کہا جائے گا اور آپﷺ نے اَسلِم تَسلَم کے الفاظ کے ذریعہ انتہائی بلیغ اور مؤثر انداز میں انتہائی جامعیت اور اختصار کے ساتھ ہر قسم کی دنیوی اور اخروی سلامتی کی ضمانت دے دی تھی اور پوری قوم کے اجروثواب کے سمیٹنے کا شوق اور ترغیب دلائی تھی، اگر تم مسلمان ہو گئے تو تمہاری رعایا بھی تمہارے سبب مسلمان ہو جائے گی اور تمہیں اس کا اجروثواب ملے گا، اگر تم مسلمان نہ ہوئے تو تمہارے ڈر اور خوف کی وجہ سے تمہاری کمزور رعایا جن کی اکثریت کاشتکاروں اور کسانوں پر مشتمل ہے، وہ مسلمان نہیں ہو گی اور ان کا وبال بھی تم پر پڑے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خط میں اس کی طرف ایک آیت لکھی جس کے بارے میں دو نظریات ہیں۔
(1)
آپﷺ نے یہ عبارت اپنے کلام کے طور پر لکھی، کیونکہ یہ خط آپ نے 7ھ میں لکھا جبکہ یہ آیت وفد نجران کی آمد پر 9ھ میں اتری، گویا آپﷺ کے الفاظ آنے والی آیت کے موافق نکلے۔
(2)
یہ آیت وفد نجران کی آمد سے پہلے اتر چکی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد کی آمد پر ان کو پڑھ کر سنائی، اس صورت میں اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کافر کو بھی دعوت و تبلیغ کے لیے خط میں آیات قرآن لکھی جا سکتی ہیں۔
ابن ابی کبشہ سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپﷺ کو اس نام سے تعبیر کرنے کی مختلف وجوہ بیان کی جاتی ہیں، (1)
ابو کبشہ آپ کے نانا یا دادا کا نام تھا اور عربوں کا یہ دستور تھا کہ جب وہ کسی کی تحقیر کرنا چاہتے تو اسے اس کے کسی غیر معروف دادے یا نانے کی طرف منسوب کرتے۔
(2)
آپﷺ کے رضاعی باپ حارث کی بیٹی کبشہ تھی، اس لیے اسے ابو کبشہ کہا جاتا تھا۔
(3)
ابو کبشہ آپﷺﷺ کی رضاعی ماں حلیمہ کے باپ کی کنیت تھی۔
(4)
ابو کبشہ نامی ایک بت پرست شخص تھا، جس نے اپنی قوم کے دین بت پرستی کو چھوڑ کر شعریٰ ستارہ کی پرستش شروع کر دی تھی تو گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرح اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا، بہرحال ابو سفیان جو اس وقت کافر تھا، اس نے آپﷺ کی نسبت آپ کے معروف اور مشہور دادے عبدالمطلب کی بجائے کسی ایسی شخصیت کی طرف کی جو گمنام اور غیر معروف تھا، آخر کار اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق سے ابو سفیان کو نوازا، اس کے دل میں اسلام داخل کر دیا اور اسے مسلمان ہو جانے کی توفیق عنایت فرمائی اور وہ فتح مکہ کے موقعہ پر مسلمان ہو گیا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4607 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: الادب المفرد / حدیث: 1109 کی شرح از الشیخ مولانا عثمان منیب ✍️
1
فوائد ومسائل:
(۱)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام بادشاہوں کو خطوط لکھے تو روم کے بادشاہ ہرقل کو بھی خط لکھا۔ اس نے ابو سفیان رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے اور تجارت کی غرض سے شام گئے ہوئے تھے۔
(۲) اس میں خط لکھنے کا ادب بھی ذکر ہوا ہے کہ پہلے بسم اللہ لکھی جائے اور خط لکھنے والا اپنا نام اور عہدہ لکھے اور اس کے بعد جس کی طرف خط لکھا جارہا ہے اس کا نام لکھا جائے نیز خط اگر کافر کے نام ہو تو سلام میں یہ انداز اختیار کیا جائے کہ سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔
(۳) مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کافر سے محبت کے خطوط لکھے بلکہ مبنی بر دعوت خطوط ہونے چاہئیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1109 سے ماخوذ ہے۔