سلسله احاديث صحيحه
الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان— قربانی، ذبیحوں، کھانے پینے، عقیقے اور جانوروں سے نرمی کرنے کا بیان
باب: ایک دفعہ شراب پینے سے چالیس روز نماز قبول نہیں ہوتی
- " لا يشرب الخمر رجل من أمتي فتقبل له صلاة أربعين صباحا ".ابن دیلمی ، جو بیت المقدس میں فروکش تھا ۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی تلاش میں مدینہ ٹھہرا ، جب اس نے عبداللہ کے بارے میں پوچھا: تو بتلایا گیا کہ وہ تو مکہ کی طرف جا چکے ہیں ۔ وہ بھی ان کے پیچھے چل دیا ، (مکہ آنے پر) معلوم ہوا کہ وہ تو طائف کی طرف روانہ ہو چکے ہیں ۔ وہ ان کی کھوج میں طائف کو روانہ ہو گیا اور بلآخر انہیں ایک کھیت میں پا لیا ۔ وہ شراب نوشی میں بدنام ایک قریشی آدمی کے ساتھ ایک دوسرے کی کوکھ پر ہاتھ رکھ کر چل رہے تھے ۔ جب میں انہیں ملا تو سلام کہا ، انہوں نے میرے سلام کا جواب دیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کون سی چیز تجھے یہاں لے آئی ہے؟ تو کہاں سے آیا ہے؟ میں نے انہیں سارا واقعہ سنایا اور پھر پوچھا: اے عبداللہ بن عمرو ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب کے بارے میں کچھ فرماتے سنا ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ۔ (یہ سن کر) قریشی نے اپنا ہاتھ کھینچا اور چلا گیا ۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ۔ ” میری امت کا جو آدمی شراب پیتا ہے ، چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔ “
_____________________
أخرجه ابن خزيمة في " صحيحه " (1 / 103 / 2) من طريق عبد الله بن يوسف حدثنا
محمد بن المهاجر عن عروة بن رويم عن ابن الديلمي - الذي كان يسكن بيت المقدس -
أنه مكث في طلب عبد الله بن عمرو بن العاص بالمدينة، فسأل عنه قالوا: قد سافر
إلى مكة، فاتبعه فوجده قد سار إلى الطائف، فاتبعه، فوجده في مزرعة يمشي
مخاصرا رجلا من قريش، والقرشي يزن بالخمر، فلما لقيته سلمت عليه وسلم علي،
قال: ما غدا بك اليوم، ومن أين أقبلت؟ فأخبرته، ثم سألته: هل سمعت يا
عبد الله بن عمرو رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر شراب الخمر بشيء.؟!
قال: نعم، فانتزع القرشي يده ثم ذهب، فقال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم
يقول: فذكره.
قلت: وهذا إسناد صحيح على شرط مسلم. ومن هذا الوجه أخرجه الحاكم (1 / 257
- 258) وقال: " صحيح على شرط الشيخين "! ووافقه الذهبي!
قلت: وابن المهاجر هذا وهو الأنصاري الشامي لم يخرج له البخاري إلا في
" الأدب المفرد ".
__________جزء: 2 /صفحہ: 326__________
وقد تابعه عثمان بن حصين بن علان الدمشقي عن عروة به دون
القصة وقال: " يوما " بدل " صباحا ". أخرجه النسائي (2 / 230) وسنده صحيح
أيضا.