حدیث نمبر: 1794
- " لا تشرب مسكرا، فإني حرمت كل مسكر ".
حافظ محفوظ احمد

سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! وہاں کچھ (مخصوص) مشروبات پائے جاتے ہیں ، میں ان میں سے کون سا پی سکتا ہوں اور کون سا ترک کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ کون سے (مشروبات) ہیں ؟“ میں نے کہا: وہ ”بتع“ اور ”مزر“ ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”بتع“ اور ”مزر“ کسے کہتے ہیں ؟ میں نے کہا: شہد کی نبیذ کو ” بتع“ اور مکئی کی نبیذ کو ” مزر“ کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بس نشہ آور مشروب نہیں پینا کیونکہ میں نے ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا ہے ۔ “

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان / حدیث: 1794
- " لا تشرب مسكرا، فإني حرمت كل مسكر ".
_____________________

أخرجه النسائي (2 / 326) وأحمد (4 / 402) عن الأجلح قال: حدثني أبو بكر
بن أبي موسى عن أبيه قال: " بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى اليمن،
فقلت: يا رسول الله! إن بها أشربة، فما
__________جزء: 5 /صفحہ: 549__________

أشرب، وما أدع؟ قال: وما هي؟
قلت: البتع والمزر: قال: ما البتع والمزر؟ قال: أما البتع، فنبيذ العسل
وأما المزر، فنبيذ الذرة. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ... " فذكره
وليس عند أحمد: " فإني حرمت ... ". قلت: وهذا إسناد جيد. وتابعه أبو
بردة بن أبي موسى عن أبيه به نحوه. أخرجه مسلم (6 / 99 - 100) والنسائي
وأحمد (4 / 407 و 410 و 415 - 416 و 417) . وللشطر الأول منه شاهد من حديث
بريدة مرفوعا. أخرجه مسلم (6 / 98) وأبو داود (2 / 132) . وأخرج الشطر
الثاني منه من حديث بريدة أيضا وعائشة وابن عمر.