سلسله احاديث صحيحه
الايمان والتوحيد والدين والقدر— ایمان توحید، دین اور تقدیر کا بیان
باب: توحید کی برکتیں
- " يقول الله عز وجل: من عمل حسنة فله عشر أمثالها أو أزيد ومن عمل سيئة فجزاؤها مثلها أو أغفر ومن عمل قراب الأرض خطيئة، ثم لقيني لا يشرك بي شيئا جعلت له مثلها مغفرة ومن اقترب إلي شبرا اقتربت إليه ذراعا ومن اقترب إلي ذراعا اقتربت إليه باعا ومن أتاني يمشي أتيته هرولة ".سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالی کہتے ہیں: جس نے ایک نیکی کی، اسے دس گنا یا اس سے بھی زیادہ اجر و ثواب عطا کروں گا اور جس نے ایک برائی کی تو ایک برائی کا ہی بدلہ دوں گا یا وہ بھی معاف کر دوں گا۔ جو زمین کے لگ بھگ گناہ کرنے کے بعد مجھے اس حالت میں ملے کہ اس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا رکھا ہو تو میں اسے اتنی ہی مغفرت عطا کر دوں گا۔ جو ایک بالشت میرے قریب ہو گا میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوں گا، جو ایک ہاتھ میرے قریب ہو گا میں دو ہاتھوں کے پھیلاؤ کے بقدر اس کے قریب ہوں گا اور میری طرف چل کر آئے گا میں اس کی طرف لپک کر جاؤں گا۔“
_____________________
أخرجه مسلم (8 / 67) وابن ماجه (1 / 382) وأحمد (5 / 153) واللفظ له
والطيالسي (ص 62 رقم 464) من طريقين عن المعرور بن سويد عن أبي ذر قال:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فذكره. وإسناده صحيح على شرط الستة.
ورواه الحاكم (4 / 241) من طريق ثالث عن المعرور به ببعض اختصار وقال:
صحيح الإسناد. ووافقه الذهبي.
تشریح، فوائد و مسائل
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو شخص ایک نیکی کرے گا اس کو اسی طرح دس نیکیوں کا ثواب ملے گا، اور میں اس پر زیادہ بھی کر سکتا ہوں، اور جو شخص ایک برائی کرے گا اس کو ایک ہی برائی کا بدلہ ملے گا، یا میں بخش دوں گا، اور جو شخص مجھ سے (عبادت و طاعت کے ذریعہ) ایک بالشت قریب ہو گا، تو میں اس سے ایک ہاتھ نزدیک ہوں گا، اور جو شخص مجھ سے ایک ہاتھ نزدیک ہو گا تو میں اس سے ایک «باع» یعنی دونوں ہاتھ قریب ہو گا، اور جو شخص میرے پاس (معمولی چال سے) چل کر آئے گا، تو میں اس کے پاس دوڑ کر آؤں گا، اور جو شخص مج۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3821]
فوائد و مسائل: (1)
اس حدیث میں اللہ کی عظیم رحمت کا بیان ہے، اس لیے بندے کو نیکیاں زیادہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور گناہوں سے توبہ کرتے رہنا چاہیے۔
(2)
جو شخص اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اللہ تعالی اسے توفیق بخشتا ہے۔
(3)
شرک کی موجودگی میں گناہ معاف نہیں ہوتے۔