سلسله احاديث صحيحه
الزواج ، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم— شادی، بیویوں کے مابین انصاف، اولاد کی تربیت، ان کے درمیان انصاف اور ان کے اچھے نام
باب: ابلیس طلاق دلوانے والے شیطان کو شاباش دیتا ہے
- (إنّ إبليس! يضعُ عرشهُ على الماءِ (وفي طريق: البحر) ، ثم يبعثُ سراياهُ؛ فأدناهُم منه منزلةُ أعظمُهم فتنةً، يجيءُ أحدُهم فيقولُ: فعلتُ كذا وكذا، فيقولُ: ما صنعتَ شيئاً، ثمَّ يجيءُ أحدُهم فيقولُ: ما تركتُه حتى فرّقتُ بينهُ وبين امرأتهِ، فيُدنِيه منه ويقولُ: نِعم أنت! قال الأعمش: أراه قال: فيلتزِمُه) .سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ابلیس پانی پر (ایک روایت کے مطابق سمندر پر) اپنا تخت رکھتا ہے ، پھر (لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے) اپنے لشکروں کو روانہ کرتا ہے ۔ سب سے بڑا فتنہ برپا کرنے والا (شیطان) منزلت میں اس کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے ۔ ایک واپس آ کر کہتا ہے کہ میں نے ایسے ایسے کیا ۔ ابلیس کہتا ہے: تو نے تو کچھ نہیں کیا ۔ ایک دوسرا آ کر کہتا ہے: میں نے اسے اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک کہ اس کے اور اس کی بیوی کے مابین جدائی نہیں ڈال دی ۔ وہ اسے اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے: واہ تیری کیا بات ہے! “ اعمش روی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ میرے شیخ نے یہ الفاظ بھی نقل کئے: ” پھر وہ اسے اپنے گلے لگا لیتا ہے ۔ “
_____________________
جاء من حديث جابر بن عبد الله- رضي الله عنه- من طرق:
الأولى: الأعمش عن أبي سفيان عنه.
أخرجه مسلم (8/138)، وأحمد (3/314)، وعبد بن حميد في "المنتخب " (3/20/1031) من طريق أبي معاوية: ثنا الأعمش به.
ثم بدا لي إشكال على متن الحديث، وهو أن فيه اختصاراً مخلاً بينته في
" الضعيفة " (6102) ؛ فراجعه.
وتابعه جريرعن الأعمش به مختصراً بلفظ:
"إن عرش إبليس على البحر، فيبعث سراياه، فيفتنون الناس، فأعظمهم
عنده أعظمهم فتنة".
أخرجه مسلم.
الثانية: أبو الزبير عن جابر به مختصراً مثل رواية جرير.
أخرجه مسلم (8/139)، وأحمد (3/332 و 366 و 384)، وصرح أبو الزبير بالتحديث في رواية لأحمد.
الثالثة: وهب بن مُنبِّه قال: أخبرني جابر بن عبد الله أنه سمع رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: ... فذكره
أخرجه ابن حبان في "صحيحه " (رقم 6154- الإحسان) .
قلت: وإسناده صحيح.
الرابعة: ماعز التميمي عن جابر مرفوعاً.
أخرجه أحمد (3/ 354) .
قلت: ورجاله ثقات؛ غير ماعز هذا، قال الحافظ في "التعجيل ":
"غير معروف، وهو غير ماعز بن عبد الرحمن العامري الذي في (ثقات التابعين) لابن حبان ".
__________جزء: 7 /صفحہ: 779__________
الخامسة: عن مصعب بن المقدام قال: نا سعيد بن بَشير عن قتادة عن سليمان
ابن يسار عنه.
أخرجه الطبراني في "المعجم الأوسط " (1/248/ 1/4285/2) (5/78/
4139- ط)، وقال:
"لم يروه عن سعيد إلا مصعب ".
قلت: وكلاهما ضعيف.
وللحديث شاهد من حديث أبي موسى الأشعري، تقدم برقم (1280) .
(تنبيه): مع كثرة طرق هذا الحديث في "صحيح مسلم " وغيره؛ لم يعزه المعلق على " الإحسان " (14/66- 67) إلا إلى "أوسط الطبراني "! وبواسطة "مجمع الزوائد" (7/289)! *